کراچی: پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 23 ارب ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے 4 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 23.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 18.3 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.4 ارب ڈالر کے قریب رہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق زیرِ جائزہ ہفتے میں اس کے اپنے زرمبادلہ ذخائر میں 1 ارب 21 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک نے اس نمایاں ہفتہ وار اضافے کی وجہ حکومتِ پاکستان کو موصول ہونے والے کمرشل قرض کے وسائل کو قرار دیا۔ جاری کردہ بیان میں قرض دینے والے ادارے، مدت یا مالی شرائط کی مزید تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس وصولی کی لاگت یا ادائیگی کے شیڈول کے بارے میں دستیاب اعداد سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
زرمبادلہ ذخائر کسی ملک کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی بل اور مالیاتی استحکام کے لیے اہم حفاظتی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ذخائر میں قرض کے ذریعے ہونے والا اضافہ اور برآمدات، ترسیلات زر یا براہ راست سرمایہ کاری کے ذریعے ہونے والا اضافہ معاشی اعتبار سے ایک جیسا نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ قرض کی رقم مستقبل میں واجبات بھی پیدا کرتی ہے۔ موجودہ ہفتہ وار بیان بنیادی طور پر ذخائر کی سطح اور اضافے کے فوری سبب کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی مضبوط ہوا اور 277.35 روپے پر بند ہوا، جو گزشتہ بندش 277.36 روپے کے مقابلے میں ایک پیسے کی بہتری تھی۔ شرح مبادلہ میں یہ معمولی حرکت ذخائر میں بڑے ہفتہ وار اضافے کے ساتھ ریکارڈ ہوئی، تاہم دونوں تبدیلیوں کے درمیان براہ راست سببی تعلق کا دعویٰ مرکزی بینک کے بیان میں نہیں کیا گیا۔
مرکزی بینک کے ذخائر 18.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کے بعد مجموعی ملکی ذخائر میں اسٹیٹ بینک کا حصہ واضح طور پر بڑا ہے، جبکہ باقی رقم کمرشل بینکوں کے پاس ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ذخائر کی سمت کا انحصار بیرونی قرضوں کی ادائیگی، نئی رقوم کی آمد، تجارتی بہاؤ اور دیگر بیرونی مالی لین دین پر ہوگا۔ موجودہ تصدیق شدہ اعداد 4 ستمبر تک کی پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں۔




