اسلام آباد: پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، کے دوران ریئل اسٹیٹ شعبے سے انکم ٹیکس وصولی سالانہ بنیاد پر 29 فیصد کم ہو کر تقریباً 28 ارب روپے رہ گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ٹیکس حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسی دو ماہ کی مدت میں تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولی 91 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو ریئل اسٹیٹ شعبے سے حاصل رقم سے کئی گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنخواہ دار افراد سے جولائی اور اگست میں جمع ہونے والا 91 ارب روپے کا انکم ٹیکس گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.3 ارب روپے، یعنی تقریباً 7.5 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سے متعلق انکم ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی۔ یہ اعداد دونوں شعبوں کے ٹیکس بوجھ اور وصولیوں کے فرق پر نئی بحث کو جنم دیتے ہیں۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو گزشتہ وفاقی بجٹ میں بعض ٹیکس شرحوں میں کمی دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں پراپرٹی شعبے سے حاصل انکم ٹیکس میں کمی سامنے آئی۔ تاہم صرف دو ماہ کے اعداد کی بنیاد پر پورے مالی سال کی وصولیوں کا حتمی اندازہ لگانا مناسب نہیں، کیونکہ جائیداد کی خرید و فروخت، دستاویزی لین دین اور ٹیکس ادائیگیوں کی رفتار سال کے مختلف حصوں میں بدل سکتی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس کی وصولی عموماً تنخواہوں سے منبع پر کٹوتی کے نظام کے ذریعے ہوتی ہے، جس کے باعث اس شعبے میں دستاویزی ادائیگی اور وصولی نسبتاً براہ راست رہتی ہے۔ دوسری جانب ریئل اسٹیٹ میں ٹیکس وصولی کا تعلق جائیداد کی منتقلی، لین دین کی تعداد، قیمتوں اور متعلقہ ٹیکس قواعد سے بھی ہوتا ہے۔ موجودہ اعداد اسی لیے ٹیکس پالیسی کے مختلف شعبوں پر اثرات کا موازنہ کرنے کے لیے اہم ہیں۔

رپورٹ میں ریئل اسٹیٹ سے 28 ارب روپے اور تنخواہ دار طبقے سے 91 ارب روپے کی وصولی کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ان اعداد سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ ابتدائی دو ماہ میں تنخواہ دار طبقے کی انکم ٹیکس ادائیگی پراپرٹی شعبے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ آئندہ مہینوں کے ایف بی آر اعداد سے واضح ہوگا کہ یہ فرق برقرار رہتا ہے یا ریئل اسٹیٹ سرگرمی میں تبدیلی کے ساتھ وصولیوں کی رفتار بھی بدلتی ہے۔