اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ اور مختلف دیگر مصنوعات کی برآمد پر ادا شدہ درآمدی ڈیوٹیز کی واپسی، یعنی ڈیوٹی ڈرا بیک، کی شرحوں میں نظرثانی کر دی ہے۔ ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے چار الگ نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں اور نئی شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ ایس آر او 1908(I)/2026 میں ٹیکسٹائل اور متعلقہ مصنوعات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرحیں شامل ہیں۔ ایس آر او 1909(I)/2026 چمڑے اور اس سے وابستہ مصنوعات، ایس آر او 1910(I)/2026 انجینئرنگ اور متعلقہ اشیا، جبکہ ایس آر او 1911(I)/2026 مختلف دیگر تیار شدہ برآمدی مصنوعات سے متعلق ہے۔

ڈیوٹی ڈرا بیک کا بنیادی مقصد ان درآمدی خام مال یا اجزا پر ادا کی گئی کسٹمز ڈیوٹی کا مقررہ حصہ برآمد کنندہ کو واپس کرنا ہوتا ہے جو بعد میں برآمدی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوں۔ اس طریقہ کار سے برآمدی اشیا کی لاگت میں شامل درآمدی ٹیکس کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ بین الاقوامی منڈی میں مقامی صنعت کی قیمت زیادہ مسابقتی رہ سکے۔

شرحوں میں تبدیلی کا عملی اثر ہر مصنوعات، اس کے خام مال، متعلقہ ٹیرف لائن اور نوٹیفکیشن میں مقرر کردہ فارمولے کے مطابق مختلف ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام ٹیکسٹائل، چمڑے یا انجینئرنگ برآمد کنندگان کو یکساں شرح یا یکساں مالی فائدہ ملے گا۔ متعلقہ برآمد کنندگان کو اپنے HS کوڈ اور مخصوص نوٹیفکیشن کے تحت قابل اطلاق شرح دیکھنا ہوگی۔

پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل سب سے بڑا صنعتی حصہ رکھتا ہے، جبکہ چمڑا، انجینئرنگ مصنوعات اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبے بھی زرمبادلہ آمدنی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ خام مال اور مشینری پر درآمدی ڈیوٹیز ان شعبوں کی پیداواری لاگت پر اثر ڈال سکتی ہیں، اسی لیے ڈیوٹی ڈرا بیک پالیسی کو برآمدی مسابقت سے جوڑا جاتا ہے۔

نئی شرحوں کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت برآمدی نمو اور صنعتی مسابقت بڑھانے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح میں نظرثانی خود بخود برآمدات میں اضافے کی ضمانت نہیں دیتی؛ توانائی، فنانسنگ، عالمی طلب، شرح مبادلہ، لاجسٹکس اور مارکیٹ رسائی جیسے عوامل بھی برآمدی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایف بی آر کے چار نوٹیفکیشن اس پالیسی کے کسٹمز پہلو میں تازہ تبدیلی کی قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔