اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، نے انکم ٹیکس رولز 2002 کے رول 231C کو تبدیل کرنے کے لیے مسودہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کا تعلق ٹیکس تنازعات کے متبادل حل، اے ڈی آر، کے طریقۂ کار سے ہے۔ ایس آر او 1496(I)/2026 مورخہ 2 ستمبر کے مطابق یہ تجاویز ابھی نافذ شدہ حتمی قواعد نہیں ہیں۔ متاثرہ افراد اور اداروں کو سرکاری گزٹ میں اشاعت کے سات دن کے اندر اعتراضات یا تجاویز بھیجنے کا موقع دیا گیا ہے، جن پر ایف بی آر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے غور کرے گا۔
مسودے کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 134A کے تحت تنازع حل کرانے کا خواہش مند شخص ایف بی آر کو مقررہ فارم پر تحریری درخواست دے گا۔ درخواست کے ساتھ تنازع کے حقائق، متعلقہ قانونی مؤقف، زیر تنازع ٹیکس کی رقم، ابتدائی حل کی تجویز اور مطلوبہ دستاویزات دینا ہوں گی۔ فارم میں درخواست گزار سے یہ تصدیق بھی لی جائے گی کہ اس نے معاملے کے مکمل اور درست کوائف ظاہر کیے ہیں اور کوئی اہم بات نہیں چھپائی۔
مجوزہ طریقۂ کار میں ٹیکس دہندہ کو اے ڈی آر کمیٹی کے لیے اپنا ایک نامزد نمائندہ مقرر کرنا ہو گا۔ اس نمائندے کے شناختی کارڈ کی نقل، فون نمبر، مستقل پتہ اور ای میل درخواست کے ساتھ دینا لازم ہو گا، جبکہ قانون میں مطلوب حلف نامہ یا تحریری یقین دہانی بھی شامل کرنا ہو گی۔ مزید یہ کہ ٹیکس دہندہ کے نامزد نمائندے کو کمیٹی کے چیئرپرسن کے لیے تین ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کرنا ہوں گے۔ مسودے میں ان ججوں کے فون نمبر، بینک اکاؤنٹ تفصیل، مستقل پتے اور ای میل بھی طلب کی گئی ہے اور مقام سے قربت کو تقرری کے لیے مدنظر رکھنے کا ذکر ہے۔
ایف بی آر نے کمیٹی ارکان کے لیے یک مشت معاوضہ بھی تجویز کیا ہے۔ زیر تنازع ٹیکس واجب الادا رقم پانچ کروڑ روپے تک ہو تو چیئرپرسن کے لیے تین لاکھ روپے اور ہر دوسرے رکن کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں؛ چیف کمشنر اِن لینڈ ریونیو اس معاوضے سے مستثنیٰ ہو گا۔ پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے تنازع میں چیئرپرسن کے لیے پانچ لاکھ اور ہر رکن کے لیے ڈھائی لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ چیئرپرسن اور رکن کو بالترتیب وفاقی حکومت کے بی پی ایس 22 اور بی پی ایس 21 افسر کے مساوی سفری اور یومیہ الاؤنس بھی دیا جا سکے گا۔
ایک ہی ٹیکس دہندہ کی ایک مالی سال میں موصول ہونے والی متعدد درخواستوں میں مسائل یکساں ہوں اور مقررہ چیئرپرسن بھی ایک ہی ہو تو ایسی درخواستیں بعض شرائط کے تحت اکٹھی نمٹائی جا سکیں گی۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کمیٹیاں نوے دن کے اندر تشکیل پائیں تو انہیں معاوضے سمیت متعلقہ مقاصد کے لیے ایک کمیٹی سمجھا جا سکتا ہے، خواہ الگ الگ تشکیل کے احکامات جاری ہوئے ہوں۔
اگر کوئی کمیٹی ایسے انتظامی، قانونی یا طریقہ کار کے مسئلے کے باعث غیر فعال یا تحلیل ہو جائے جس کا قصور ایف بی آر یا ٹیکس دہندہ پر نہ ہو تو چیئرپرسن یا ارکان کو معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ پہلے سے جمع یا پیشگی ادا رقم متعلقہ فریقوں کو پندرہ دن میں واپس کرنے کی تجویز ہے۔ کسی رکن یا چیئرپرسن کو مفادات کے ٹکراؤ یا عدم دستیابی کی صورت میں کمیٹی کی تشکیل کے نوٹیفکیشن سے سات دن کے اندر ایف بی آر کو تحریری اطلاع دینا ہو گی۔ معاوضہ ادا ہو جانے کے بعد انہیں حتمی فیصلے یا کمیٹی کی تحلیل تک کارروائی سے الگ ہونے کی اجازت نہ دینے کی شق بھی مسودے میں شامل ہے۔
شیڈول میں اے ڈی آر درخواست کے ساتھ زیر سماعت اپیل، ریفرنس یا سول اپیل واپس لینے کا نمونہ بھی دیا گیا ہے۔ اس میں یہ گنجائش درج ہے کہ اگر کمیٹی مقررہ مدت میں فیصلہ نہ دے تو درخواست گزار کی سابقہ اپیل کی بحالی کا حق متاثر نہ ہو۔ اس شق کا مقصد بظاہر اے ڈی آر اختیار کرتے وقت موجود عدالتی یا اپیلی حق کی صورت واضح کرنا ہے، لیکن اس کے عملی اثرات حتمی قواعد اور متعلقہ قانون کے تحت ہی طے ہوں گے۔
متبادل تنازع حل کا نظام عدالت یا ٹیکس اپیل کے روایتی راستے کے مقابلے میں باہمی اور کمیٹی پر مبنی طریقہ فراہم کرتا ہے، مگر موجودہ نوٹیفکیشن صرف طریقۂ کار کی مجوزہ تبدیلی ہے۔ ایف بی آر اعتراضات سننے کے بعد متن میں ترمیم، اسے برقرار یا واپس لے سکتا ہے۔ اس لیے ٹیکس دہندگان پر نئے فارم، نامزدگی یا معاوضے کے قواعد کا اطلاق اسی وقت سمجھا جائے گا جب حتمی نوٹیفکیشن باضابطہ طور پر جاری ہو۔




