اسلام آباد: وفاقی حکومت نے روزانہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتیں ہفتہ 5 ستمبر سے پیر 7 ستمبر 2026 تک نافذ رہیں گی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 349 روپے سے کم ہوکر 345 روپے 87 پیسے ہوگئی ہے۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 374 روپے 31 پیسے سے بڑھا کر 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کے دوران برقرار رکھنے کی پالیسی کے باعث یہ نرخ پیر تک مؤثر رہیں گے۔
یہ اعلان ایک روز قبل ہونے والی تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے، جب 4 ستمبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ مسلسل تبدیلیاں اس نئے طریقۂ کار کی عکاسی کرتی ہیں جس میں بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو نسبتاً کم وقفے میں مقامی صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔
حکومت نے جولائی 2026 میں ہفتہ وار جائزے کی جگہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرایا تھا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق قیمتوں کا حساب عالمی منڈی میں گزشتہ سات روز کے اوسط نرخوں کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، روزانہ ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرتی ہے، جبکہ جمعہ کے نرخ ہفتے کے اختتام تک برقرار رہتے ہیں۔
نئے فریم ورک کے تحت اوگرا کو روزانہ بین الاقوامی حوالہ جاتی قیمتیں بھی شائع کرنا ہیں تاکہ قیمت سازی کے عمل میں شفافیت بڑھے۔ پیٹرولیم لیوی کی حد وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط رہتی ہے، جبکہ اس شرح میں کسی تبدیلی کے لیے فنانس ڈویژن کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ واضح کیے گئے ہیں۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل اور تیار پیٹرولیم مصنوعات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں، مال برداری کے اخراجات اور زرمبادلہ کی شرح میں تبدیلی مقامی نرخوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی تیل منڈی کی بے یقینی نے حالیہ ہفتوں میں قیمتوں کو زیادہ متحرک رکھا ہے۔ تاہم کسی ایک دن کی کمی یا اضافے کو طویل مدتی رجحان سمجھنے کے بجائے روزانہ سرکاری نوٹیفکیشن دیکھنا ضروری ہوگا۔
نئی قیمتوں کا براہِ راست اثر نجی ٹرانسپورٹ، مال برداری، زرعی مشینری اور ڈیزل استعمال کرنے والے کاروباروں کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔ پیٹرول صارفین کو محدود ریلیف ملا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگلی تبدیلی روزانہ قیمت بندی کے قواعد اور سرکاری اعلان کے مطابق ہوگی۔




