اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ضبط اور بحقِ سرکار ضبط شدہ سامان کو فروخت کرنے کے لیے الیکٹرانک نیلامی کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ نئے قواعد ایس آر او 1889 آف 2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیے گئے ہیں اور ان کے تحت رجسٹریشن سے لے کر سامان کی فہرست، بولی، منظوری، ادائیگی اور کامیاب خریدار کو سامان کی حوالگی تک پورا عمل الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دیا جا سکے گا۔

قواعد کے مطابق درست قومی شناختی کارڈ یا نائیکوپ رکھنے والا شخص ایف بی آر کے آکشن ماڈیول میں کم از کم 25 ہزار روپے کی یک وقتی رجسٹریشن فیس ادا کر کے بولی دہندہ بن سکے گا۔ رجسٹریشن مکمل ہونے پر ہر بولی دہندہ کو منفرد شناختی نمبر دیا جائے گا۔ متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر کسی درخواست کو مسترد کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوں گی۔

نیلامی کے لیے سامان کا نگران ادارہ انوینٹری، تصاویر اور متعلقہ دستاویزات الیکٹرانک ماڈیول پر اپ لوڈ کرے گا اور ممکنہ خریداروں کے لیے جسمانی معائنے کا انتظام بھی کرے گا۔ نیلامی شروع ہونے سے پہلے مجاز افسر سامان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کرے گا، جس میں عدالتی حکم امتناع، سامان چھڑانے یا واپس لینے کے دستیاب قانونی اختیارات اور فروخت پر کسی پابندی کی جانچ شامل ہوگی۔ عدالتی حکم امتناع کے تحت موجود سامان اس حکم کے ختم یا واپس لیے جانے تک نیلام نہیں کیا جا سکے گا۔

ہر لاٹ کی ریزرو قیمت تین رکنی ویلیوایشن کمیٹی کی سفارش پر مقرر ہوگی۔ قیمت طے کرتے وقت سیلز ٹیکس انوائس، چھپی ہوئی ریٹیل قیمت، کسٹمز کی تشخیص یا مارکیٹ نرخ، سامان کی حالت، فرسودگی اور باقی ماندہ قابل استعمال مدت کو دیکھا جائے گا۔ اگر کوئی سامان مسلسل تین نیلامیوں میں فروخت نہ ہو تو مقررہ ضابطے کے تحت ریزرو قیمت مرحلہ وار کم کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

پہلی درست بولی موصول ہونے کے بعد سامان 72 گھنٹے تک آن لائن بولی کے لیے دستیاب رہے گا۔ نظام سب سے زیادہ درست بولی دکھائے گا اور ہر پیشکش کا وقت اور بولی دہندہ کی شناخت الیکٹرانک ریکارڈ میں محفوظ کرے گا۔ کامیاب بولی دہندہ کو منظوری کی اطلاع کے سات دن کے اندر پوری رقم، متعلقہ ٹیکس، ڈیوٹیز اور چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ ادائیگی پی ایس آئی ڈی یا ایف بی آر کے مقرر کردہ دوسرے الیکٹرانک ذریعے سے ہوگی اور مکمل ادائیگی کی تصدیق سے پہلے سامان جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ضبط شدہ سامان کی فروخت کے عمل میں ڈیجیٹل ریکارڈ، وسیع شرکت اور طریقہ کار کی شفافیت بڑھانا ہے۔