اسلام آباد: پی ٹی سی ایل گروپ نے کیلنڈر سال 2026 کی جولائی تا ستمبر مدت کے لیے 4.7 ارب روپے خالص منافع رپورٹ کیا ہے، جبکہ گروپ کی آمدن 304 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ گروپ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، یوفون اور ٹیلی نار پر مشتمل انضمام شدہ موبائل کمپنی، اور یو مائیکروفنانس بینک شامل ہیں۔
مالی نتائج کے اعلان کے موقع پر پی ٹی سی ایل کے چیف ایگزیکٹو ندیم خان نے بتایا کہ خود پی ٹی سی ایل کے خالص منافع میں 343 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 3 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ کمپنی کے مطابق کاروباری لاگت، خصوصاً بجلی، ایندھن اور مہنگائی سے متعلق اخراجات بلند سطح پر ہیں۔ انتظامیہ نے کہا کہ ٹیلی کام شعبے کے لیے کمرشل کے بجائے صنعتی بجلی ٹیرف کی فراہمی کے لیے حکومت سے رابطہ جاری ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی توسیع نسبتاً کم لاگت پر ممکن ہو سکے۔
یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد قائم موبائل کاروبار کی آمدن گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 139 فیصد بڑھی، جبکہ آپریٹنگ منافع 33.5 ارب روپے رہا۔ انضمام شدہ کمپنی کے چیف آپریٹنگ افسر عاطف رضا کے مطابق نئی ٹیلی کام کمپنی نیٹ ورک یکجائی اور ری برانڈنگ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ تقریباً 40 فیصد یوفون اور ٹیلی نار انفراسٹرکچر کو یکجا کیا جا چکا ہے اور کمپنی کے مطابق اس پیش رفت سے اس کے 7 کروڑ 60 لاکھ صارفین میں سے تقریباً 70 فیصد کو فائدہ پہنچا ہے۔
گروپ کے مالیاتی کاروبار یو مائیکروفنانس بینک نے 18.3 ارب روپے آمدن حاصل کی اور زیر جائزہ مدت میں آپریٹنگ منافع رپورٹ کیا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں ادارے کو آپریٹنگ نقصان ہوا تھا۔ پی ٹی سی ایل گروپ نے کیلنڈر سال کے پہلے نو ماہ کے دوران 53 ارب روپے سے زیادہ سرمایہ کاری بھی کی۔
یہ نتائج پاکستان کے ٹیلی کام شعبے میں بڑے انضمام کے بعد نیٹ ورک، صارفین اور آپریشنز کو یکجا کرنے کے جاری عمل کے دوران سامنے آئے ہیں۔ گروپ انتظامیہ کے مطابق مستقبل کی منافع بخشی پر توانائی اور ایندھن کی لاگت، نیٹ ورک انضمام کی رفتار اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اہم اثرات ڈالیں گے۔ کمپنی نے کسی مستقبل کے منافع کی حتمی ضمانت نہیں دی بلکہ موجودہ آپریشنل پیش رفت اور اخراجات کے تناظر میں بہتری کی توقع ظاہر کی ہے۔
