اسلام آباد: حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس نظام کو جدید اور ڈیجیٹل بنانے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی فنانسنگ پر پیش رفت کی ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن، یعنی ٹاڈرا، منصوبے کی سفارش کرتے ہوئے اسے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھیج دیا ہے۔ منصوبے کی مجموعی مالیت تقریباً 57.1 ارب روپے یا 20 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے اور اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض تجویز کیا گیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے ٹیکس نظام کی اصلاح کے نام پر ترقیاتی شراکت داروں سے پہلے ہی تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کیے جا چکے ہیں۔ نئی مجوزہ فنانسنگ شامل ہونے پر یہ حجم تقریباً 4.9 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ منصوبے کے تقریباً 81 ملین ڈالر مشاورتی خدمات اور 10 ملین ڈالر پراجیکٹ مینجمنٹ کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

منصوبہ بندی کمیشن نے ماضی کے غیر ملکی فنڈڈ اصلاحاتی پروگراموں کے اثرات کا جائزہ لینے اور نئے منصوبے کے قابل پیمائش نتائج واضح کرنے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے بتایا کہ نئی سرمایہ کاری کا مقصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو مالی سال 2028-29 تک 13.5 فیصد تک لے جانا اور فعال رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد سات ملین سے بڑھا کر 12 ملین کرنا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.3 فیصد بتایا گیا۔

منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سرکاری جائزے میں ڈیٹا سکیورٹی، موجودہ نظام کے خلا، مصنوعی ذہانت کے مجوزہ ماڈلز اور ڈیٹا گورننس کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی گئی۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ سابقہ منصوبوں میں بننے والا آئی ٹی ڈھانچہ روایتی ٹرانزیکشن پروسیسنگ کے لیے تھا اور جدید مشین لرننگ کی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔

ٹاڈرا ابھی تمام منظوری مراحل مکمل نہیں کر چکا؛ سی ڈی ڈبلیو پی کی سفارش کے بعد اسے ایکنک کی منظوری درکار ہے اور قرض مذاکرات بھی متوقع ہیں۔ اس لیے مجوزہ اہداف کو حاصل شدہ نتائج نہیں سمجھا جا سکتا۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈیجیٹل سرمایہ کاری عملی طور پر محصولات، ٹیکس تعمیل اور ٹیکس دہندگان کی بنیاد میں قابل پیمائش بہتری پیدا کرتی ہے یا نہیں۔