اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 30 ستمبر کو سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں گردش کرنے والے ایک نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے ترجمان نے واضح کیا کہ ادارے نے ایسا کوئی سرکلر جاری نہیں کیا اور ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ تاریخ 30 ستمبر برقرار ہے۔

زیرِ گردش جعلی نوٹیفکیشن میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ مختلف تجارتی تنظیموں، ٹیکس دہندگان اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواستوں کے بعد آخری تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ ایف بی آر کی وضاحت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب کاروباری تنظیمیں اور ٹیکس ماہرین واقعی حکومت سے مہلت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان حلقوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ریٹرن فارم کے اجراء میں تاخیر، آن لائن نظام پر دباؤ اور آئی رس پورٹل میں تکنیکی مسائل کے باعث بہت سے ٹیکس دہندگان مقررہ وقت میں فائلنگ مکمل نہیں کر پا رہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے حکومت سے ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے بھی ایف بی آر کے متعلقہ حکام کو خط میں فائلنگ کے دوران پیش آنے والے تکنیکی مسائل اور دیگر رکاوٹوں کی نشاندہی کی تھی۔ تاہم ان مطالبات کی موجودگی خود بخود توسیع کا سرکاری فیصلہ نہیں بنتی، اور ایف بی آر نے واضح کیا کہ 30 ستمبر تک ایسا کوئی توسیعی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 29 ستمبر تک ٹیکس سال 2026 کے لیے جمع کرائے گئے ریٹرنز کی تعداد 51 لاکھ 81 ہزار تک پہنچ گئی تھی، جو گزشتہ ٹیکس سال کی اسی مدت کے 35 لاکھ 53 ہزار ریٹرنز کے مقابلے میں تقریباً 45.8 فیصد زیادہ تھی۔ قانون کے تحت عمومی طور پر 30 ستمبر ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ ہوتی ہے، اگرچہ ماضی میں ایف بی آر کئی مرتبہ اس مدت میں توسیع کر چکا ہے۔

رواں مالی سال کے فنانس ایکٹ میں ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں واپسی سے متعلق بعض جرمانے بھی بڑھائے گئے ہیں، اس لیے تاخیر کی صورت میں اخراجات پہلے سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ایف بی آر کی وضاحت کا عملی مطلب یہ تھا کہ ٹیکس دہندگان کسی غیر سرکاری یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایف بی آر کے باقاعدہ اعلامیے اور سرکاری ذرائع کو معتبر سمجھیں۔