فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ تاریخ برقرار رکھتے ہوئے ٹیکس گزاروں پر زور دیا ہے کہ وہ آخری وقت سے پہلے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کریں۔ جیو نیوز کی 29 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ مقررہ تاریخ میں عمومی توسیع کا اعلان نہیں کیا گیا اور مقررہ وقت کے بعد ریٹرن فائل کرنے والوں کو قانون کے تحت جرمانوں، اضافی ٹیکس واجبات اور ممکنہ قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر درج انکم ٹیکس ڈیڈ لائنز کے مطابق افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے معمول کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے، جبکہ عام کمپنیوں کے لیے 31 دسمبر کی تاریخ درج ہے۔ خصوصی ٹیکس سال رکھنے والی کمپنیوں کے لیے بھی 30 ستمبر کی تاریخ قابل اطلاق ہو سکتی ہے۔ اس لیے مختلف زمروں کے ٹیکس گزاروں کو اپنی قانونی حیثیت کے مطابق متعلقہ تاریخ کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔

جیو نیوز کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ آمدنی، اثاثوں اور مالی لین دین سے متعلق مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے ڈیٹا سسٹمز مختلف ذرائع سے مالی معلومات وصول کرتے ہیں، اس لیے معلومات چھپانے یا غلط تفصیلات دینے کی صورت میں واجبات کی وصولی اور دوسری قانونی کارروائی ممکن ہے۔ ریٹرن ایف بی آر کے آن لائن نظام اور ٹیکس آسان سہولت کے ذریعے جمع کرائے جا سکتے ہیں، جبکہ مدد کے لیے ہیلپ لائن اور ٹیکس دفاتر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس سال میں اب تک تقریباً 48 لاکھ 80 ہزار انکم ٹیکس ریٹرنز جمع ہو چکے ہیں، جو گزشتہ ٹیکس سال میں اسی نوعیت کی فائلنگ سے زیادہ بتائے گئے ہیں۔ یہ اعداد سرکاری نظام میں فائلنگ کے بڑھتے حجم کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم حتمی مجموعی تعداد ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد واضح ہوگی۔

ٹیکس اور سرکاری واجبات کی ادائیگی میں سہولت کے لیے اسٹیٹ بینک کی ہدایت پر کمرشل بینکوں کی متعلقہ شاخیں 30 ستمبر کو رات 10 بجے تک کھلی رکھنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ بینکوں کو آن لائن بینکنگ، موبائل ایپس، اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی چینلز کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تاکہ آخری روز سرکاری ٹیکس اور ڈیوٹیز کی ادائیگی میں رکاوٹ کم ہو۔

ٹیکس گزاروں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ جرمانوں یا قانونی اثرات کی مخصوص شرح اور اطلاق ان کی نوعیت، فائلنگ کی صورتحال اور متعلقہ قانون پر منحصر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایف بی آر کی تازہ ہدایات اور اپنے کیس سے متعلق قواعد کی جانچ ضروری ہے۔