اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک بھر کے رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 نومبر 2026 تک پیداواری عمل کی ویڈیو نگرانی کے لیے کیمرے نصب کریں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے اس سلسلے میں سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 30 آف 2026 جاری کیا ہے، جس کے تحت کپاس کی گانٹھوں اور مختلف اقسام کے ریشوں کی پروسیسنگ کو الیکٹرانک نظام کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔
نئے تقاضوں کا اطلاق قدرتی، مصنوعی اور مخلوط ریشوں پر ہوگا، جن میں کپاس، پالئیسٹر، وسکوز، اون اور ایکرائلک شامل ہیں، بالخصوص جب یہ ریشے ڈھیلی، کھلی یا غیر گانٹھ شدہ شکل میں پروسیسنگ کے مراحل سے گزر رہے ہوں۔ ایف بی آر نے ٹیکسٹائل پراسیسنگ مشینری پر نگرانی کے آلات نصب کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ پیداوار اور خام مال کے استعمال سے متعلق معلومات کو زیادہ مؤثر انداز میں مانیٹر کیا جا سکے۔
یہ حکم سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40C(2) اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے متعلقہ قواعد کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ تازہ جنرل آرڈر نومبر 2025 میں جاری کردہ سابقہ ہدایات کے علاوہ اضافی شرائط متعارف کراتا ہے۔ اس کا مقصد رجسٹرڈ اسپننگ یونٹس میں پیداواری سرگرمیوں کی الیکٹرانک نگرانی کو زیادہ جامع بنانا اور ٹیکس انتظامیہ کے لیے قابل تصدیق معلومات کی دستیابی بہتر کرنا ہے۔
ٹیکسٹائل پاکستان کی بڑی برآمدی صنعتوں میں شامل ہے اور اسپننگ اس کی ابتدائی پیداواری کڑی ہے۔ خام کپاس اور دیگر ریشوں سے یارن کی تیاری کے مرحلے میں پیداوار کے درست ریکارڈ ٹیکس تعمیل اور سپلائی چین کی نگرانی کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ ایف بی آر کی نئی ہدایات اسی مرحلے پر ویڈیو نگرانی بڑھاتی ہیں، تاہم اس اقدام کے عملی اخراجات اور صنعت کی جانب سے تعمیل کے اثرات متعلقہ یونٹس کی تنصیبات اور موجودہ نظام کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
حکم میں 15 نومبر کی آخری تاریخ واضح طور پر مقرر کی گئی ہے، اس لیے متعلقہ رجسٹرڈ یونٹس کے لیے یہ محض تجویز نہیں بلکہ ریگولیٹری تعمیل کا تقاضا ہے۔ آئندہ مرحلے میں ایف بی آر اس نظام کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو اپنے الیکٹرانک مانیٹرنگ فریم ورک کے مطابق استعمال کر سکے گا۔ کسی مخصوص یونٹ کے خلاف کارروائی یا جرمانے سے متعلق کوئی نتیجہ اس وقت تک اخذ نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ قانون اور انفرادی تعمیل کی صورتحال کے مطابق ایسا اقدام سامنے نہ آئے۔
