اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کی آئینی حیثیت سے متعلق نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے حکم میں اسی بنیادی آئینی سوال پر بعد میں اختیار کیے گئے سپریم کورٹ کے عدالتی راستے کو عدالتی نظم، قانونی اصولوں اور ادارہ جاتی وقار کے حوالے سے سنجیدہ تشویش کا باعث قرار دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ میں چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ عدالت کے سامنے متعدد نظرثانی درخواستیں تھیں جو 2021 کے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ اس فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ کے 2020 کے حکم سے پیدا ہونے والی درخواستوں میں اپیل کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا اور انکم سپورٹ لیوی ایکٹ کے قانون سازی کے طریقہ کار کو آئینی معیار پر پرکھا گیا تھا۔
2021 کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شامل تھے، نے قرار دیا تھا کہ انکم سپورٹ لیوی کو فنانس ایکٹ 2013 کے ذریعے اس انداز میں نافذ نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ یہ آئین کے تحت منی بل کی محدود تعریف میں نہیں آتی تھی۔ عدالت کے مطابق ایسی قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں پر مشتمل معمول کا پارلیمانی طریقہ اختیار کرنا ضروری تھا۔
بعد ازاں جون 2022 میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے، جس میں جسٹس منیب اختر شامل تھے، ملتے جلتے آئینی سوالات پر اپیل کی اجازت دی اور پہلے تعین پر دوبارہ غور کا امکان ظاہر کیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے تازہ حکم میں کہا کہ جب پہلے سے موجود عدالتی تعین مؤثر ہو اور اس کے خلاف نظرثانی کا باقاعدہ راستہ بھی موجود ہو تو بعد کا مساوی یا بعد کا بینچ طے شدہ نظیر سے انحراف کے لیے مقررہ عدالتی طریقہ کار کا پابند رہتا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ اپیل کی اجازت سے انکار ہر صورت میں کسی الگ درخواست کی سماعت کو نہیں روکتا، لیکن بعد میں اپیل کی اجازت دینا بذات خود پہلے فیصلے کو تبدیل، منسوخ یا نظرثانی نہیں کر سکتا۔ عدالت نے عدالتی آزادی کے ساتھ عدالتی ضبط، تحمل اور ادارہ جاتی تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے نتیجتاً قرار دیا کہ 2021 کے فیصلے میں ایسی واضح قانونی غلطی یا بنیادی نقص موجود نہیں جس کی بنیاد پر نظرثانی اختیار استعمال کیا جائے۔ تمام متعلقہ نظرثانی درخواستیں مسترد کر دی گئیں اور سابقہ فیصلہ برقرار رہا۔ یہ حکم انکم سپورٹ لیوی کے ساتھ ساتھ مختلف عدالتی بینچوں کے درمیان نظیر، ادارہ جاتی نظم اور طے شدہ قانونی سوالات پر دوبارہ غور کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
