اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک ملازمہ سے متعلق ورک پلیس ہراسانی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کی جانب سے پہلے دیا گیا حکم بحال کر دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ڈان کی رپورٹنگ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 کے تحت قابلِ کارروائی ہراسانی کے لیے مبینہ رویے میں جنسی نوعیت کا عنصر موجود ہونا ضروری ہے، جبکہ محض نامناسب، ناپسندیدہ یا نقصان دہ رویہ ہر صورت اسی قانون کے تحت جنسی ہراسانی نہیں بن جاتا۔

تین رکنی بینچ میں چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔ عدالت نے عثمان شاہد اور عقیل عباس کی درخواستیں منظور کیں۔ معاملہ نیشنل بینک کی ملازمہ نادیہ سرور کی شکایت سے متعلق تھا، جنہوں نے اپنے کام کی جگہ پر ہراسانی اور مخالفانہ ماحول پیدا کیے جانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس کیس میں وفاقی محتسب اور بعد ازاں صدرِ پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختلف فیصلوں کے بعد معاملہ وفاقی آئینی عدالت تک پہنچا۔

دستیاب عدالتی خلاصے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے قانون کی تعریف اور اس کے دائرۂ کار کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ 2010 کے ایکٹ کے تحت کسی رویے کو جنسی ہراسانی قرار دینے کے لیے اس کا جنسی نوعیت سے متعلق ہونا بنیادی شرط ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے طرزِ عمل کے خلاف دوسرے قانونی یا انتظامی راستے موجود ہو سکتے ہیں جو نامناسب یا نقصان دہ ہوں، لیکن ہر ایسے رویے کو لازماً اسی مخصوص قانون کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔

یہ فیصلہ کسی عمومی دعوے کا متبادل نہیں کہ ہر کام کی جگہ پر شکایت صرف اسی صورت قابلِ سماعت ہوگی جب ایک ہی نوعیت کے الفاظ یا افعال سامنے آئیں۔ ہر مقدمہ اپنے حقائق، ثبوت اور قابلِ اطلاق قانونی دفعات کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ موجودہ فیصلے میں عدالت نے مخصوص قانون کی تشریح اور اس کیس کے ریکارڈ کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو ختم کیا اور صدر کا سابق حکم بحال کیا۔

اس مقدمے کی حساس نوعیت کے باعث الزامات اور عدالتی نتائج میں فرق واضح رکھنا ضروری ہے۔ شکایت میں بیان کیے گئے واقعات الزامات تھے، جبکہ وفاقی آئینی عدالت کا موجودہ نتیجہ یہ ہے کہ زیرِ بحث رویہ 2010 کے ورک پلیس ہراسانی قانون کی مخصوص تعریف کے تحت کس حد تک آتا ہے۔ فیصلے کے وسیع تر عملی اثرات آئندہ مقدمات میں عدالتی تشریحات، قانون کی موجودہ زبان اور ہر کیس کے شواہد پر منحصر رہیں گے۔