اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک خاتون ملازم سے متعلق کام کی جگہ ہراسگی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صدرِ پاکستان کے سابق حکم کو بحال کر دیا ہے۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان نے کی جبکہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی بینچ میں شامل تھے۔ تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے لکھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ تحفظِ خواتین برائے ہراسگیِ کام کی جگہ ایکٹ 2010 کے تحت ہر نامناسب، ناخوشگوار یا قابلِ اعتراض رویہ خود بخود قانونی معنوں میں ہراسگی نہیں بنتا۔ فیصلے کے مطابق اس قانون کے دائرے میں کارروائی کے لیے متعلقہ طرزِ عمل میں جنسی نوعیت یا جنسی پہلو کا موجود ہونا بنیادی شرط ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عمومی بدسلوکی یا نقصان دہ رویے کے لیے دیگر قانونی راستے موجود ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں اسی قانون کے تحت ہراسگی قرار دینے کے لیے قانون میں مقرر عناصر کا پورا ہونا ضروری ہے۔

یہ مقدمہ نیشنل بینک کی ملازم نادیہ سرور کی شکایت سے متعلق تھا۔ وفاقی محتسب نے 2013 میں بعض بینک افسران کے خلاف کارروائی کی تھی، جبکہ بعد کے مختلف قانونی مراحل کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے 31 دسمبر 2024 کو محتسب کے فیصلے کو بحال کیا تھا۔ اس کے خلاف عثمان شاہد اور عقیل عباس نے اپیلیں دائر کیں، جنہیں وفاقی آئینی عدالت نے منظور کر لیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ہائیکورٹ کی آئینی نگرانی کے دائرہ کار پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ شواہد کی ازسرنو جانچ عام طور پر محدود حالات میں ہی کی جا سکتی ہے، مثلاً قانون کے غلط اطلاق، حقائق کی غلط تعبیر یا اختیار کے ناجائز استعمال کی صورت میں۔ اس فیصلے کا عملی اثر یہ ہے کہ 2010 کے ہراسگی قانون کی تشریح میں جنسی عنصر کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ تاہم فیصلے کے وسیع تر قانونی اثرات آئندہ مقدمات میں عدالتوں کی تشریح اور متعلقہ قانون کے اطلاق سے مزید واضح ہوں گے۔