رائٹرز کے تازہ سروے کے مطابق ماہرین اقتصادیات کی اکثریت توقع کرتی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں اپنی پالیسی شرح سود کو 3.50 سے 3.75 فیصد کی موجودہ حد میں برقرار رکھے گا اور 2026 کے باقی حصے میں بھی تبدیلی نہیں کرے گا۔ تاہم گزشتہ سروے کے مقابلے میں شرح سود میں اضافے کی پیش گوئی کرنے والے ماہرین کی تعداد نمایاں طور پر بڑھی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مضبوط معاشی اعداد و شمار اور مہنگائی کے خطرات نے پالیسی کے بارے میں غیر یقینی بڑھا دی ہے۔ یہ نتائج پیش گوئیاں ہیں، فیڈرل ریزرو کا فیصلہ نہیں۔
4 سے 9 ستمبر کے درمیان کیے گئے رائٹرز پول میں 93 میں سے 65 ماہرین، یعنی تقریباً 70 فیصد، نے اگلے اجلاس میں شرح برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی۔ باقی نے ایک چوتھائی فیصد پوائنٹ اضافے کی پیش گوئی کی، جو اگر ہوا تو جولائی 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہوگا۔ پورے سال کے بارے میں 93 میں سے 52 ماہرین نے شرح میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا امکان ظاہر کیا، جبکہ باقی کم از کم ایک اضافے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ تناسب گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
سروے میں شریک ماہرین نے اگست کے امریکی صارف قیمت اشاریے کو آئندہ فیصلوں کے لیے اہم قرار دیا، کیونکہ توقع سے زیادہ مہنگائی فیڈ کو سخت پالیسی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ چیئرمین کیون وارش نے مستقبل کی پالیسی پر محدود رہنمائی دی ہے، جس سے مارکیٹ اور ماہرین کی پیش گوئیوں میں فرق بڑھا ہے۔ جولائی کے پالیسی اجلاس میں بھی کمیٹی کے ارکان میں اختلاف نمایاں تھا اور تین ارکان نے شرح بڑھانے کی حمایت کی تھی۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی نے مہنگائی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز پول میں 2026 کے لیے ذاتی کھپت اخراجات کے اشاریے سے ماپی جانے والی مہنگائی 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی، جو فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے بلند ہے۔




