اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے قیام کے تقریباً دس ماہ بعد دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ اور نئی آئینی عدالت میں زیرالتوا مقدمات کی مجموعی تعداد میں صرف معمولی کمی آئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایف سی سی کے فعال ہونے سے قبل سپریم کورٹ میں 56,608 مقدمات زیرالتوا تھے۔ نئی عدالت کے قیام کے بعد ان میں سے 22,183 مقدمات ایف سی سی کو منتقل کیے گئے جبکہ 33,925 مقدمات سپریم کورٹ کے پاس رہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں 32,718 اور وفاقی آئینی عدالت میں 23,340 مقدمات زیرالتوا ہیں۔ دونوں عدالتوں کا مجموعی بوجھ 56,058 مقدمات بنتا ہے۔ اس طرح مقدمات ایک عدالت سے دوسری عدالت میں منتقل ہونے کے باوجود مجموعی زیرالتوا تعداد میں بڑا فرق پیدا نہیں ہوا۔
وفاقی آئینی عدالت 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی تھی۔ حکومت نے اس اقدام کے حق میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے الگ فورم بننے سے سپریم کورٹ پر دباؤ کم ہوگا اور عام سائلین کو مقدمات کے فیصلوں میں تیزی سے ریلیف مل سکے گا۔ تاہم قانونی حلقوں میں اب یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی مدت میں یہ اصلاح بنیادی طور پر مقدمات کی تقسیم تک محدود رہی ہے یا واقعی عدالتی تاخیر میں کمی لا سکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت 17 فعال جج جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں 7 جج خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ایف سی سی میں مزید 6 نشستیں خالی ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سپریم کورٹ کے لیے 7.441 ارب روپے اور وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6.048 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بعض وکلا نے اس اضافی عدالتی ڈھانچے اور اخراجات کے مقابلے میں مقدمات کے مجموعی بوجھ میں محدود کمی کو تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔
قانونی ماہرین کی آرا یکساں نہیں ہیں۔ کچھ وکلا کا کہنا ہے کہ ایف سی سی کے قیام کا مقصد صرف زیرالتوا مقدمات کم کرنا نہیں بلکہ آئینی تنازعات کے لیے مخصوص عدالتی فورم مہیا کرنا بھی تھا، اس لیے ادارے کی کامیابی کو صرف مقدمات کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر اضافی ججوں، عملے اور بجٹ کے باوجود مجموعی زیرالتوا مقدمات تقریباً وہیں رہیں تو عدالتی اصلاح کے عملی نتائج پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر اس بحث کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آئندہ مہینوں میں آئینی اور عام مقدمات کے اوسط فیصلے کے وقت، سماعتوں کے تسلسل اور سائلین کو ملنے والے عملی ریلیف میں کیا تبدیلی آتی ہے۔ فی الحال دستیاب اعداد و شمار یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ صرف ادارہ جاتی تقسیم سے مقدمات کے مجموعی بوجھ میں فوری اور نمایاں کمی نہیں آئی۔




