اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن ادائیگیوں اور پنشنرز کی ثبوتِ حیات تصدیق کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے کمرشل بینکوں کے انتظامی کردار کو محدود کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئے معیاری طریقہ کار کے تحت بینک پنشنر کے اکاؤنٹ کو اپنی صوابدید پر بند یا معطل نہیں کر سکیں گے، جبکہ بایومیٹرک اور پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیے نادرا کو سرکاری اکاؤنٹنگ نظام سے براہ راست منسلک کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ محفوظ ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔ اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ پنشنر کی زندگی کی ڈیجیٹل تصدیق بینکاری چینل پر منحصر رہنے کے بجائے نادرا سے براہ راست متعلقہ سرکاری اکاؤنٹنگ ادارے تک منتقل ہو۔

نئے ایس او پیز میں پنشنرز کے لیے تصدیق کے متبادل راستے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پنشنرز نادرا مراکز اور موبائل ایپ کے ذریعے ثبوتِ حیات کی ضروریات پوری کر سکیں گے، جبکہ تصدیقی قواعد میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کا مقصد بزرگ شہریوں اور دیگر پنشنرز کے لیے عمل کو نسبتاً آسان بنانا ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ پنشن ادائیگی میں رکاوٹ یا اکاؤنٹ کی معطلی براہ راست پنشنر کی روزمرہ مالی ضروریات کو متاثر کر سکتی ہے۔ نئے نظام میں بینک ادائیگی کے ذریعے کے طور پر موجود رہیں گے، لیکن ثبوتِ حیات کی انتظامی توثیق اور اکاؤنٹ کی حیثیت سے متعلق یکطرفہ فیصلوں کی گنجائش محدود کی گئی ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق حکومت نے اس نظام کو نادرا، سی جی اے اور ایم اے جی کے درمیان محفوظ ڈیجیٹل رابطے سے منسلک کیا ہے۔ نئے قواعد کے نفاذ کی عملی رفتار، تمام بینکوں میں یکساں اطلاق اور پنشنرز کو درپیش ابتدائی تکنیکی مسائل کے بارے میں مزید تفصیلات وقت کے ساتھ سامنے آئیں گی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ وفاقی حکومت نے پنشن تصدیق کا انتظامی بوجھ بینکوں سے ہٹا کر متعلقہ سرکاری اداروں اور نادرا کے براہ راست ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل کیا ہے۔