اسلام آباد میں وفاقی جیل نظام کے لیے ’فیڈرل پرزن اینڈ کریکشنل فیسلٹی ایکٹ 2026‘ کا حتمی مسودہ تیار کر کے وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کی منظوری اور نفاذ کی صورت میں وفاقی دارالحکومت میں جیلوں کے قیام، انتظام، حفاظت، قیدیوں کی تحویل، اصلاح اور معاشرے میں دوبارہ بحالی کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسودہ نو تعینات سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پرزن علی اکبر نے تیار کیا ہے۔ مجوزہ قانون میں وفاقی جیل نظام کے مقاصد میں عدالتی سزاؤں پر قانون اور قواعد کے مطابق عمل درآمد، قیدیوں کو محفوظ تحویل میں رکھنا اور آئین، پاکستان کے قابلِ اطلاق قوانین اور متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں میں تسلیم شدہ بنیادی حقوق کا تحفظ شامل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سزا اور اصلاح کے قانونی مقاصد برقرار رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ انسانی وقار اور ان کی بنیادی قدر کو ملحوظ رکھتے ہوئے برتاؤ کیا جائے گا اور قانون میں دی گئی بنیادوں کے سوا امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ سزا یافتہ قیدیوں کو اصلاحی عمل میں شامل کیا جا سکے گا، جبکہ قواعد کے تحت خصوصی معافی یا مالی مراعات جیسی ترغیبات کی گنجائش بھی تجویز کی گئی ہے۔ حکومت کو وفاقی جیل یا اصلاحی مرکز کے طور پر عمارت، زمین یا احاطہ نامزد کرنے، جیل قائم کرنے، توسیع یا منتقلی کرنے اور ضرورت کے مطابق عارضی یا ذیلی جیل مقرر کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز ہے۔

انتظامی نگرانی کے لیے چیف کمشنر کی سربراہی میں پرزن مینجمنٹ بورڈ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ بورڈ جیلوں کے شفاف اور مؤثر انتظام سے متعلق سفارشات دے گا اور قیدیوں کی فلاح، بحالی، فلاحی سرگرمیوں اور جیل انتظامیہ کی نگرانی کے لیے اوور سائٹ کمیٹی قائم کر سکے گا۔ جیل اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی یا بدانتظامی کی صورت میں ضابطہ جاتی کارروائی اور کم از کم ایک اپیل کے حق کی شق بھی مسودے میں موجود ہے۔

مجوزہ قانون قیدیوں کو ان کے فرائض، حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے، طبی اور نفسیاتی معائنے، شکایات درج کرانے اور جدید معیار کے مطابق شکایتی نظام قائم کرنے کی بات کرتا ہے۔ آپریشنل کارکردگی، احتساب، سکیورٹی اور نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز ہے۔

مسودے کے مطابق قیدی جیل میں فراہم کردہ سہولت کے ذریعے خطوط بھیج اور وصول کر سکیں گے اور آڈیو یا ویڈیو کالز کی اجازت بھی دی جا سکے گی۔ رشتہ داروں، دوستوں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والوں کی ملاقاتوں کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ قواعد کے مطابق ازدواجی ملاقات کی شق بھی شامل ہے۔ تاہم مواصلات اور ملاقاتیں مقررہ نگرانی کے تحت ہوں گی۔ یہ تمام نکات ابھی مجوزہ قانون کا حصہ ہیں؛ وزارت داخلہ کی منظوری اور بعد کی قانونی کارروائی سے قبل انہیں نافذ شدہ حقوق یا حتمی قواعد نہیں سمجھا جا سکتا۔