اسلام آباد: قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو نے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد 2026 کے دوران پاکستان میں رپورٹ ہونے والے تصدیق شدہ پولیو کیسز کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ پاکستان پولیو خاتمہ پروگرام کے مطابق متاثرہ بچی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز-بی سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ رواں سال ضلع خیبر سے سامنے آنے والا دوسرا اور خیبر پختونخوا سے چھٹا کیس ہے۔

پولیو خاتمہ پروگرام نے نئے کیس کو اس بات کی یاد دہانی قرار دیا ہے کہ وائرس کی گردش ختم ہونے تک ہر بچے کو بار بار ویکسین کی مکمل حفاظتی خوراک پہنچانا ضروری ہے۔ پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے اور اس کا علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو آنے والی مہمات میں پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

حکام کے مطابق پشاور بلاک، جس میں پشاور اور خیبر اضلاع شامل ہیں، میں ماحولیاتی نمونوں سے وائرس کی موجودگی کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ملک میں مجموعی طور پر جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی میں کمی ہوئی ہے، بعض بلند خطرے والے علاقوں میں وائرس کی گردش اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ نئے کیس کے بعد متعلقہ علاقے میں کیس انویسٹی گیشن شروع کر دی گئی ہے اور وائرس کی مزید منتقلی روکنے کے لیے سائنسی شواہد کی بنیاد پر ردعمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے رواں سال اب تک چار بڑے پیمانے کی پولیو ویکسینیشن مہمات چلائی ہیں، جن میں چار کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچوں کو متعدد مرتبہ ویکسین فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ بلند خطرے والے علاقوں، خصوصاً پشاور بلاک میں ہدفی مہمات کے دوران زبانی اور انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین بھی استعمال کی گئی ہے۔ ستمبر کی ذیلی قومی مہم میں ملک بھر میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی گئی تھی۔

اگلی ذیلی قومی پولیو مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں چلانے کا پروگرام ہے، جس میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں تک رسائی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ضلع خیبر بھی اس مہم میں شامل ہے۔ یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی جائے گی اور سرحد پار رابطہ بھی برقرار رکھا جائے گا، کیونکہ وائرس جغرافیائی اور انتظامی حدود کا پابند نہیں ہوتا۔

نئے کیس کی تصدیق کے باوجود حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ کسی ایک مہم سے وائرس کا خاتمہ یقینی نہیں ہوتا۔ مسلسل ویکسینیشن، معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی مضبوطی، ماحولیاتی نگرانی اور ہر گھر تک رسائی ضروری ہے۔ کیسز کی تعداد میں کمی ایک مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، مگر خیبر اور پشاور میں وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مکمل خاتمے تک خطرہ برقرار ہے۔