ٹوبہ ٹیک سنگھ: ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو فیصل آباد نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر محمد امیر پنو اور ان کے تین بیٹوں کے خلاف 32 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 2025 اور 2026 کے دوران مبینہ طور پر بچائے گئے ٹیکس کی رقم کو تحائف اور جائیداد کی خریداری کے ذریعے اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ مقدمے میں محمد امیر پنو کے بیٹوں محمد ہادی، محمد سعد اور محمد ابراہیم سمیت دیگر متعلقہ افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ یہ تمام نکات تحقیقاتی ادارے کے الزامات ہیں اور عدالت میں ابھی ثابت ہونا باقی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق سابقہ برسوں میں ظاہر کی گئی نقد رقم کے اعداد میں مبینہ تبدیلیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2014 کے ٹیکس گوشوارے میں 35 لاکھ روپے نقد ظاہر کیے گئے تھے، جسے بعد میں مبینہ طور پر 73 کروڑ 30 لاکھ روپے تک بڑھایا گیا، جبکہ اس سال ظاہر کردہ آمدن 11 لاکھ 39 ہزار روپے تھی۔ تحقیقاتی ادارے نے 2025 اور 2026 میں بیٹوں کے نام مبینہ طور پر اربوں روپے کے تحائف ظاہر کرنے اور فیصل آباد و چنیوٹ میں زرعی زمین اور دیگر اثاثوں کی خریداری کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا ہے۔
ایف آئی آر کا الزام ہے کہ اثاثوں کے اصل ذرائع کو گوشواروں میں تبدیلی اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے چھپایا گیا۔ تاہم مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور ملزمان کو قانونی طور پر دفاع کا حق حاصل ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی عدالت کی جانب سے ان الزامات پر حتمی فیصلہ یا سزا سامنے نہیں آئی۔
محمد امیر پنو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ معاملہ ان کی وراثتی جائیدادوں سے متعلق ہے جن کی قدر قابل ٹیکس آمدن کے طور پر ظاہر کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے درج مقدمے کا قانونی طور پر مقابلہ کریں گے۔ اس لیے خبر میں تحقیقاتی ادارے کے دعووں اور نامزد شخص کے مؤقف کو الگ الگ رکھا جانا ضروری ہے، جبکہ حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی عمل کے بعد ہوگا۔
