اسلام آباد: پاکستانی برآمد کنندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بین الاقوامی بازاروں کا منظم جائزہ لیا جائے جہاں بھارت اور بنگلہ دیش کو ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے اور پاکستان کی برآمدی مسابقت بہتر بنانے کے لیے زیادہ مؤثر دوطرفہ تجارتی انتظامات تلاش کیے جائیں۔ یہ تجاویز وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں سامنے آئیں، جس میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، جبکہ وزیر مملکت خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ کاروباری نمائندوں نے عالمی شپنگ میں تاخیر، بندرگاہی سہولت، ٹیکس ریفنڈز اور بینکاری قواعد سے متعلق مسائل پیش کیے۔
برآمد کنندگان نے عالمی لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث ادائیگیوں کی سیٹلمنٹ مدت میں زیادہ لچک دینے کی تجویز بھی دی۔ اجلاس میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی برآمدی فنانسنگ اسکیم کو مثبت اقدام قرار دیا گیا، جبکہ صنعت کے نمائندوں نے توانائی کی بلند لاگت، کیپٹو پاور گیس لیوی، صوبائی انفراسٹرکچر لیویز اور بڑھتی پیداواری لاگت کو مسابقت کے لیے اہم رکاوٹیں قرار دیا۔
گوشت اور لائیو اسٹاک شعبے نے منہ کھر بیماری، بین الاقوامی صحت کے تقاضوں، سرحدی پابندیوں اور خلیجی منڈیوں تک رسائی کے مسائل اٹھائے۔ جام کمال نے بتایا کہ وزیراعظم لائیو اسٹاک کی ترقی، بیماریوں کے کنٹرول، سرمایہ کاری، بہتر افزائش اور ویلیو ایڈڈ برآمدات میں دلچسپی لے رہے ہیں، جبکہ نجی شعبے کی قیادت میں ایک مخصوص لائیو اسٹاک بورڈ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ معدنیات اور سرجیکل آلات کے شعبوں نے بھی ٹیکس، ضوابط، ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت سے متعلق تجاویز دیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر تجارت نے کہا کہ وزارت مختلف شعبوں کے مخصوص اور مشترکہ مسائل یکجا کرکے متعلقہ وزارتوں سے جواب لے گی اور وزیراعظم کے غور کے لیے عملی سفارشات تیار کرے گی۔ موجودہ اجلاس میں کسی نئے تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے؛ بھارت یا بنگلہ دیش کے مساوی ترجیحی رسائی حاصل کرنا فی الحال کاروباری نمائندوں کی سفارش اور حکومتی جائزے کا موضوع ہے۔ حتمی تجارتی انتظامات کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ مذاکرات اور باضابطہ حکومتی فیصلے درکار ہوں گے۔
