اسلام آباد: وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے جاری ربیع سیزن کے لیے ملک میں کھاد کی مجموعی رسد کی صورتحال پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت فرٹیلائزر ریویو کمیٹی کے اجلاس میں کھاد کی دستیابی، مارکیٹ قیمتوں، تقسیم کے انتظامات اور ربیع 2026-27 کے دوران صوبائی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ربیع 2026-27 میں یوریا کی کھپت تقریباً 35 لاکھ 96 ہزار ٹن رہنے کا تخمینہ ہے، جو گزشتہ ربیع کے 35 لاکھ 63 ہزار ٹن سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں سیزن کے دوران یوریا کی مجموعی دستیابی 39 لاکھ 50 ہزار ٹن متوقع ہے۔ اس میں 7 لاکھ 65 ہزار ٹن ابتدائی ذخیرہ اور تقریباً 31 لاکھ 85 ہزار ٹن مقامی پیداوار شامل ہے۔ ان اعداد کے مطابق یوریا کی متوقع دستیابی اندازہ شدہ کھپت سے تقریباً 3 لاکھ 54 ہزار ٹن زیادہ بنتی ہے۔
ڈی امونیم فاسفیٹ، یعنی ڈی اے پی، کی متوقع کھپت گزشتہ پانچ سال کے اوسط کی بنیاد پر تقریباً 8 لاکھ 38 ہزار ٹن بتائی گئی ہے، جو ربیع 2025-26 کے مقابلے میں 0.4 فیصد زیادہ ہے۔ دستیاب تخمینے کے مطابق ڈی اے پی کی مجموعی دستیابی 7 لاکھ 66 ہزار ٹن ہوگی۔ یوں موجودہ تخمینوں میں متوقع کھپت اور دستیابی کے درمیان تقریباً 72 ہزار ٹن کا فرق بنتا ہے، تاہم وزارت نے مجموعی کھاد رسد کی صورتحال کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔
فرٹیلائزر ریویو کمیٹی نے ملک بھر میں مارکیٹ کی صورتحال اور تقسیم کے انتظامات پر بھی غور کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ربیع سیزن کے دوران کسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب ذخائر برقرار رکھنے، مارکیٹ میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی حوصلہ شکنی اور بروقت کھاد کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مجموعی کھاد آف ٹیک گزشتہ سیزن کے مقابلے میں 0.8 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔
کھاد کی بروقت دستیابی گندم سمیت اہم ربیع فصلوں کی کاشت اور پیداوار کے لیے اہم ہے، اس لیے یوریا اور ڈی اے پی کی رسد، قیمت اور تقسیم کا جائزہ سیزن کے دوران حکومتی نگرانی کا حصہ رہتا ہے۔ موجودہ اعداد سرکاری تخمینے ہیں اور حقیقی کھپت موسمی حالات، فصلوں کے رقبے، قیمتوں اور کسانوں کی خریداری کے رجحان کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں کسی نئی سبسڈی یا درآمدی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ بنیادی توجہ دستیاب ذخائر اور متوقع طلب کے جائزے پر رہی۔
