اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے جن میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو امریکا کی جانب سے پیغام رسانی یا نمائندگی قرار دیا گیا تھا۔ ڈان کی 27 اگست کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اس نوعیت کے دعوے گمراہ کن اور حقائق کے برخلاف ہیں۔

ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا ایک روزہ دورہ پاکستان کی اپنی سفارتی کوششوں کے تناظر میں کیا تھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایرانی قیادت سے گفتگو کا محور خطے میں کشیدگی کم کرنا، جاری فوجی تعطل کو توڑنے کے امکانات تلاش کرنا اور امریکا و ایران کے درمیان کسی مذاکراتی حل کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔

طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ دورے کو امریکی صدر یا امریکی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرنا درست نہیں۔ ان کے بقول یہ سرگرمی پاکستان کے ثالثی کردار کے دائرے میں ہوئی اور اس کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے میں تعمیری مدد دینا تھا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ یہ موقف دفتر خارجہ کا سرکاری بیان ہے؛ رپورٹ میں کسی تیسرے فریق کی طرف سے اس تشریح کی آزادانہ توثیق یا کسی باقاعدہ امریکی نمائندگی کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورت حال، خصوصاً امریکا ایران کشیدگی، کے حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد امن مذاکرات کی بحالی اور جامع، منصفانہ اور پائیدار تصفیے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی علاقائی پیش رفت پر اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں رہے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے تین مرتبہ گفتگو کی۔

یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان خطے میں مختلف سفارتی رابطوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ تاہم تازہ بیان کا قابل تصدیق دائرہ دفتر خارجہ کی تردید، دورے کے بیان کردہ مقاصد اور جاری سفارتی رابطوں تک محدود ہے۔ کسی نئے معاہدے، جنگ بندی یا مذاکراتی نتیجے کا اعلان اس بریفنگ میں نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک