ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں الگ الگ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ رپورٹ میں دی گئی تمام ہلاکتوں، برآمدگیوں اور کارروائیوں کی تفصیل سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے؛ اردو ہیڈ لائنز کے پاس ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا ہلاک افراد کی شناخت سے متعلق اضافی معلومات موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک کارروائی کے دوران دو افراد مارے گئے جنہیں سکیورٹی ذرائع نے دہشت گرد قرار دیا۔ ذرائع نے کہا کہ کارروائی کے بعد اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک جگہ بھی تباہ کی گئی۔ رپورٹ میں برآمد شدہ اشیا کی مقدار، ہلاک افراد کے نام یا کسی گرفتاری کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس خبر میں ان پہلوؤں پر کوئی قیاس شامل نہیں کیا گیا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا کے بارے میں سکیورٹی ذرائع نے پانچ مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ ایکسپریس اردو کی خبر میں اس کارروائی کا مقام لدھا بتایا گیا ہے، تاہم وقت، ہلاک افراد کی شناخت، ممکنہ زخمیوں یا برآمد شدہ سامان کی الگ تفصیل شامل نہیں۔ اسی بنا پر یہ رپورٹ دستیاب بیان کی حدود تک محدود ہے اور کسی فرد یا گروہ کی وابستگی کے بارے میں غیر بیان شدہ نتیجہ اخذ نہیں کرتی۔

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے ساسول میں ایک اور کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وہاں چار مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور کارروائی میں کواڈ کاپٹر استعمال کیا گیا۔ بنوں کے دو، لدھا کے پانچ اور ساسول کے چار افراد کو جمع کیا جائے تو رپورٹ میں بیان کردہ مجموعی تعداد 11 بنتی ہے۔ یہ اعداد سکیورٹی ذرائع کے دعوے ہیں اور کسی عدالتی فیصلے یا آزاد تحقیق کے نتائج کے طور پر پیش نہیں کیے جا رہے۔

رپورٹ میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی اور کسی شہری نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ شہری نقصان نہ ہونے کا بیان بھی اسی سرکاری نوعیت کے ذریعے سے منسوب ہے؛ مقامی انتظامیہ یا آزاد ذرائع کی الگ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔ اگر کسی ضلع کی انتظامیہ یا متعلقہ ادارہ شہریوں کے لیے نقل و حرکت یا حفاظت کی ہدایت جاری کرے تو قابلِ عمل معلومات وہی باضابطہ اطلاع ہوگی۔

سکیورٹی ذرائع نے ان کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف جاری مہم اور عزمِ استحکام کے وسیع تر تصور سے جوڑا ہے۔ یہ بیان آئندہ کارروائیوں کے کسی مخصوص مقام، وقت یا نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا۔ نئی سرکاری تفصیل، ہلاک افراد کی شناخت، گرفتاریوں یا شہری اثرات کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے پر اسی واقعے کے ریکارڈ کو الگ نئی خبر بنانے کے بجائے مناسب طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک