اسلام آباد: مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی منافع اور ڈیویڈنڈ کی ترسیل خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے تقریباً 665 ملین ڈالر زیادہ رہی۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 2.305 ارب ڈالر منافع اور ڈیویڈنڈ بیرون ملک منتقل کیے، جبکہ اسی مالی سال میں ملک کو 1.64 ارب ڈالر کی خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔

یہ معلومات رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہریں رزاق بھٹو کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کی گئیں۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ڈویژن کے انچارج وزیر کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق براہ راست سرمایہ کاری سے وابستہ کمپنیوں نے تقریباً 2.202 ارب ڈالر کی آمدنی بیرون ملک منتقل کی، جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی منافع اور ڈیویڈنڈ کی ترسیل تقریباً 103.7 ملین ڈالر رہی۔

مجموعی ترسیلات کا خالص ایف ڈی آئی سے زیادہ ہونا سرمایہ کاری کے بہاؤ کا ایک اہم اشاریہ ہے، تاہم دونوں اعداد کو مکمل طور پر ایک ہی نوعیت کی رقم سمجھنا درست نہیں۔ منافع کی ترسیل میں ان کمپنیوں کی کمائی بھی شامل ہوسکتی ہے جنہوں نے پاکستان میں پچھلے برسوں میں سرمایہ لگایا تھا، جبکہ خالص ایف ڈی آئی متعلقہ مالی سال میں نئی آمد اور اخراج کے فرق کی نمائندگی کرتی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات، صنعتی توسیع، ٹیکنالوجی اور روزگار کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں کو قانونی طور پر منافع منتقل کرنے کی سہولت سرمایہ کاری ماحول کا حصہ ہے۔ اس لیے پالیسی چیلنج صرف ترسیلات روکنا نہیں بلکہ نئی اور دوبارہ سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانا، کاروباری ماحول بہتر بنانا اور برآمدی صلاحیت رکھنے والی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

قومی اسمبلی میں سامنے آنے والے اعداد گزشتہ مکمل مالی سال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آئندہ برسوں میں اس توازن کا رخ نئی ایف ڈی آئی، موجودہ کمپنیوں کی کمائی، شرح مبادلہ، سرمایہ کاری پالیسی اور عالمی و مقامی کاروباری حالات سے متاثر ہوگا۔