لاہور: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 31 اکتوبر 2026 کر دی جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ایف پی سی سی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ اضافی وقت کاروبار، صنعت، چھوٹے و درمیانے اداروں اور دیگر ٹیکس فائلرز کو ریٹرن درست طور پر جمع کرانے میں سہولت دے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کو ایف بی آر کے آئرس پورٹل پر سست رفتاری، تکنیکی خرابیوں اور وقفے وقفے سے عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ یہ شکایات تجارتی تنظیم کی جانب سے سامنے آئی ہیں؛ ایف بی آر کی طرف سے اسی رپورٹ میں ان تمام تکنیکی دعوؤں کی علیحدہ تصدیق شامل نہیں۔

تجارتی ادارے نے کہا کہ ایک ماہ کی توسیع سے ٹیکس دہندگان کو حسابات کی تطبیق، حالیہ ٹیکس قانونی تبدیلیوں کو سمجھنے اور دولت کے گوشواروں میں غیر ارادی غلطیوں سے بچنے کے لیے وقت مل سکتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے اس مطالبے کو رعایت کے بجائے ٹیکس تعمیل بہتر بنانے کی عملی ضرورت قرار دیا۔

موجودہ صورتحال میں اہم فرق یہ ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے تاریخ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دستیاب رپورٹ میں ایف بی آر یا وفاقی حکومت کی جانب سے 31 اکتوبر تک توسیع کی منظوری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے ٹیکس دہندگان کے لیے نافذ العمل قانونی آخری تاریخ میں تبدیلی صرف متعلقہ سرکاری اعلان یا نوٹیفکیشن سے ہی سمجھی جائے گی۔

کاروباری برادری ماضی میں بھی ٹیکس فائلنگ کے مصروف اوقات میں ڈیجیٹل نظام کی استعداد اور طریقہ کار کی پیچیدگی سے متعلق مسائل اٹھاتی رہی ہے۔ تازہ مطالبے کا فوری نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایف بی آر موجودہ ڈیڈ لائن برقرار رکھتا ہے یا کوئی باضابطہ توسیع جاری کرتا ہے۔ جب تک ایسا اعلان نہ ہو، ایف پی سی سی آئی کی درخواست ایک تجارتی تنظیم کا مطالبہ ہی ہے، سرکاری فیصلہ نہیں۔