فرانس نے کراچی میں قائم اپنا قونصل خانہ 50 سال بعد مستقل طور پر بند کردیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی سفیر نکولا گالے نے کراچی میں الوداعی تقریب کے دوران بندش کی تصدیق کی۔ قونصل خانہ 1976 میں قائم ہوا تھا اور جنوبی پاکستان میں فرانسیسی سفارتی موجودگی کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔
سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں نئے فرانسیسی سفیر ان کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے، تاہم کراچی کے لیے نیا قونصل جنرل مقرر نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قونصل خانے کی بندش عارضی انتظام نہیں بلکہ مستقل فیصلہ ہے۔ رپورٹ میں بندش کی تفصیلی انتظامی یا مالی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان کے بارے میں قیاس آرائی شامل نہیں کی جا رہی۔
کراچی میں تعینات قونصل جنرل الیکسس شاتاتنسکی یکم ستمبر کو اپنی مدت مکمل کرکے روانہ ہوں گے۔ الوداعی تقریب میں سفارتی، تجارتی اور سماجی حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سفیر اور قونصل جنرل دونوں کے لیے تقریب منعقد ہوئی، کیونکہ سفیر گالے کی پاکستان میں مدت بھی اختتام کے قریب ہے۔
قونصل خانے کی بندش کے باوجود الائنس فرانسز کراچی اور پاکستان فرانس بزنس الائنس کام جاری رکھیں گے۔ الائنس فرانسز زبان، تعلیم اور ثقافتی رابطوں کا ادارہ ہے جبکہ کاروباری اتحاد دونوں ملکوں کے نجی شعبے کے روابط میں کردار ادا کرتا ہے۔ ان اداروں کا برقرار رہنا سفارتی قونصل خانے کی بندش سے الگ انتظامی فیصلہ ہے۔
کراچی پاکستان کا بڑا تجارتی مرکز ہے اور یہاں قونصل خانے کی موجودگی ویزا، شہری خدمات، کاروباری روابط اور ثقافتی سفارت کاری کے لیے اہم رہی ہے۔ مستقل بندش کے بعد قونصلر امور کس عملی طریقے سے اسلام آباد منتقل ہوں گے، درخواست گزاروں کے لیے رابطے کا کون سا طریقہ ہوگا اور ہنگامی شہری خدمات کیسے فراہم کی جائیں گی، اس کی مکمل تفصیل موجودہ رپورٹ میں شامل نہیں۔
فرانسیسی سفیر نے اپنے دورِ پاکستان اور دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں مثبت کلمات کہے اور کراچی کی کاروباری و ثقافتی اہمیت کو سراہا۔ یہ سفارتی اظہار ہے؛ اسے کسی نئے دوطرفہ معاہدے یا پالیسی اعلان کے طور پر نہیں پیش کیا جا رہا۔
اردو ہیڈ لائنز نے خبر کو فرانسیسی سفیر کی براہ راست تصدیق اور ڈان کی رپورٹنگ کی بنیاد پر شائع کیا ہے۔ قونصل خانہ مستقل طور پر بند ہوا ہے، لیکن اسلام آباد میں فرانسیسی سفارت خانہ اور کراچی کے دو ثقافتی و تجارتی ادارے جاری رہیں گے۔ قونصلر خدمات سے متعلق آئندہ سرکاری ہدایات سامنے آنے پر درخواست گزاروں کے لیے عملی تفصیل واضح ہوسکے گی۔




