پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) نے ادارے کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے، جبکہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سینئر حکام نے یہ معلومات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں دیں۔ حکام نے واضح کیا کہ معاملہ عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہے، اس لیے معطلی اور انکوائری کو کسی افسر کے خلاف حتمی جرم یا عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ متعلقہ افسران کے خلاف کارکردگی و نظم و ضبط کے قواعد، یعنی ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز، کے تحت انکوائری شروع کی گئی ہے۔ رپورٹ میں معطل افسران کی تعداد، ان کے نام یا انفرادی ذمہ داریوں کی مکمل تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے موجودہ مرحلے پر خبر کا دائرہ ادارہ جاتی کارروائی اور سینیٹ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ تک محدود ہے۔
سینیٹر سید مسرور احسن کی زیرِ صدارت اجلاس میں ارکان نے مبینہ بھرتی بے ضابطگیوں سے متعلق مطلوبہ تحریری جواب اور متعلقہ ریکارڈ بروقت جمع نہ کرانے پر سخت تشویش ظاہر کی۔ کمیٹی نے ان امیدواروں کی صورت حال بھی زیرِ بحث لائی جنہوں نے پی اے آر سی کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دی تھیں مگر بھرتی کا عمل طول پکڑنے کے باعث اب مقررہ بالائی عمر کی حد کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ ایسا طریقہ کار تلاش کیا جائے جس کے ذریعے متاثرہ امیدوار آئندہ پی اے آر سی بھرتیوں میں حصہ لے سکیں، چاہے تاخیر کے دوران وہ مقررہ عمر کی حد سے تجاوز کر جائیں۔ یہ ابھی کمیٹی کی سفارش ہے؛ اسے نافذ شدہ پالیسی یا امیدواروں کو ملنے والی خودکار رعایت نہیں کہا جا رہا۔ ارکان نے تمام آسامیوں، بشمول نچلے گریڈ کی پوسٹوں، پر صوبائی کوٹے کے نفاذ پر بھی زور دیا۔
وزارتی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی کوٹے پر عمل کے لیے درکار ضابطہ جاتی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے اور یقین دہانی کرائی کہ کوٹا نافذ کیا جائے گا۔ کمیٹی کی گفتگو میں بھرتی کے شفاف طریقہ کار، امیدواروں کے حقوق اور وفاقی ادارے میں صوبائی نمائندگی تین الگ مگر باہم متعلق امور کے طور پر سامنے آئے۔
اجلاس میں قومی آئل سیڈ پالیسی اور خوردنی تیل کے بڑھتے درآمدی بل پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق وفاقی حکومت مقامی تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں زیتون کی کاشت پر خاص توجہ شامل ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت کو گزشتہ تین برس کی پیش رفت، پی ایس ڈی پی منصوبوں، زیتون کے تیل سے متعلق اقدامات اور آئندہ منصوبہ بندی پر جامع رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔
اردو ہیڈ لائنز نے خبر میں بھرتی بے ضابطگیوں کو ثابت شدہ نتیجے کے بجائے زیرِ انکوائری الزام کے طور پر بیان کیا ہے۔ افسران کی معطلی ایک انتظامی قدم ہے، جبکہ محکمانہ انکوائری اور عدالتی کارروائی کے نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔




