اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں آگ کے بعد نومولود بچوں کی اموات کی تعداد سے متعلق مختلف سرکاری اور انتظامی بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 26 اگست کی تازہ رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کے حوالے سے 15 اموات بتائی گئی ہیں، جبکہ اسی رپورٹ میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا بیان 14 اموات کا ہے۔ اس اختلاف کے باعث کسی ایک تعداد کو حتمی قرار دینا درست نہیں؛ تصدیق شدہ ریکارڈ اور انکوائری کے نتیجے کا انتظار ضروری ہے۔

ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ واقعے کے وقت متعلقہ حصے میں 16 نومولود موجود تھے اور ایک بچے کو ڈاکٹر نے بچایا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر صحت نے میڈیا سے گفتگو میں 14 بچوں کی جان جانے کی بات کی۔ اس سے قبل ڈان نے اسلام آباد انتظامیہ کے بیان کی بنیاد پر 14 اموات رپورٹ کی تھیں۔ یوں دستیاب رپورٹس میں 14 اور 15 دونوں اعداد موجود ہیں اور ہر عدد کو اس کے بیان کرنے والے ادارے یا عہدیدار سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی تیسری منزل پر لگی۔ امدادی کارروائی میں فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیاں اور چار ایمبولینسیں شریک ہوئیں۔ انتظامیہ نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کیا گیا۔ دستیاب معلومات میں تمام بچوں کے داخلہ ریکارڈ، انفرادی شناخت اور موت کے سرٹیفکیٹ عوامی طور پر فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے حتمی مجموعی تعداد ان دستاویزات کی ملاپ سے واضح ہوگی۔

آگ کی وجہ پر بھی ابتدائی بیانات موجود ہیں مگر حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے شارٹ سرکٹ کا امکان بیان کیا، جبکہ مصطفیٰ کمال نے ایئرکنڈیشنر میں دھماکے اور آکسیجن سے آگ پھیلنے کی بات کی۔ یہ ابتدائی وضاحتیں ہیں، مکمل فرانزک یا تکنیکی رپورٹ نہیں۔ وزیراعظم اور صدر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی حفاظتی انتظامات، عملے کے ردعمل اور ممکنہ ذمہ داری کا جائزہ لے گی۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے اموات کے درست اور یکساں سرکاری ریکارڈ کی فوری فراہمی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسپتال کے وارڈ رجسٹر، منتقل کیے گئے بچوں کی فہرست، طبی ریکارڈ اور ضلعی انتظامیہ کے اعداد کو ملا کر ہی اختلاف ختم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک متعلقہ ادارے مشترکہ حتمی فہرست جاری نہیں کرتے، اردو ہیڈلائنز 14 یا 15 میں سے کسی ایک تعداد کو غیر مشروط حتمی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کرے گا۔

اس اپ ڈیٹ کا مقصد نئی متضاد معلومات کو واضح کرنا ہے: اسپتال انتظامیہ سے منسوب تعداد 15، وزیر صحت اور اسلام آباد انتظامیہ سے منسوب تعداد 14 ہے۔ آگ کی تکنیکی وجہ، ذمہ داری اور حتمی جانی نقصان زیرِ تحقیق ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک