کوئٹہ کے سریاب علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افغان شہری جاں بحق ہوگئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق واقعہ پیر کی رات شیخ زاید اسپتال کے قریب پیش آیا، جب دونوں افراد علاقے سے گزر رہے تھے۔ پولیس حکام نے کہا کہ مسلح افراد نے فائرنگ کی اور دونوں متاثرین موقع پر ہی جان سے گئے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم موجودہ رپورٹ میں حملہ آوروں کی تعداد، شناخت، گرفتاری یا حملے کے حتمی محرک کی تصدیق شامل نہیں۔ اس لیے واقعے کو کسی خاص تنظیم، سیاسی تنازع، ذاتی دشمنی یا سرحد پار کارروائی سے جوڑنا اس مرحلے پر قیاس ہوگا۔
ڈان کے مطابق جاں بحق افراد افغانستان کی سابق قومی فوج کے ایک سابق کمانڈر بصیر اچکزئی کے قریبی ساتھی تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بصیر اچکزئی طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضے کے چند سال بعد کوئٹہ منتقل ہوئے تھے۔ یہ تعلق تفتیش کے پس منظر کا حصہ ہوسکتا ہے، مگر پولیس نے اسے ثابت شدہ محرک قرار نہیں دیا۔
پولیس حکام نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ماہ افغان قومی فوج کے ایک اور سابق کمانڈر کو کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے قتل کیا تھا، جبکہ دو ہفتے قبل چار افغان شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ بھی پیش آیا۔ مختلف واقعات کا یہ زمانی حوالہ تشویش میں اضافہ کرتا ہے، لیکن موجودہ رپورٹ میں ان حملوں کے درمیان براہ راست تفتیشی تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔
سریاب کوئٹہ کا ایک وسیع اور گنجان علاقہ ہے جہاں بڑے اسپتال، تعلیمی ادارے، رہائشی آبادیاں اور اہم شاہراہیں موجود ہیں۔ اس نوعیت کے واقعے کی تفتیش میں جائے وقوعہ کے شواہد، عینی گواہوں، سی سی ٹی وی ریکارڈ، فون ڈیٹا اور مقتولین کی حالیہ سرگرمیوں کی جانچ اہم ہوگی۔ موجودہ رپورٹ میں ان شواہد کے نتائج دستیاب نہیں۔
افغان شہریوں کی شناخت اور حیثیت سے متعلق حساسیت کے باعث خبر میں غیر ضروری ذاتی تفصیل شامل نہیں کی گئی۔ قانونی طور پر نامعلوم حملہ آوروں کو مجرم قرار دینے سے پہلے شناخت، گرفتاری، الزام اور عدالتی کارروائی کے مراحل درکار ہیں۔
اردو ہیڈ لائنز نے خبر کو ڈان کی براہ راست رپورٹنگ اور اس میں شامل پولیس معلومات تک محدود رکھا ہے۔ سابق افغان فوجی کمانڈر سے قربت ایک رپورٹ شدہ تعلق ہے، حملے کی وجہ کا حتمی نتیجہ نہیں۔ مزید پیش رفت صرف پولیس یا عدالتی ریکارڈ کے واضح انتساب کے ساتھ شامل کی جائے گی۔




