پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان ضلع اکاؤنٹس دفتر سے متعلق مبینہ 37 ارب روپے سے زائد کے کرپشن کیس میں سابق سینئر آڈیٹر رضی اللہ کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جج کلیم ارشد خان نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد قرار دیا کہ ملزم ضمانت کی رعایت کا حق دار نہیں۔ ضمانت مسترد ہونا جرم ثابت ہونے یا سزا سنائے جانے کے برابر نہیں۔
رضی اللہ کو قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے گزشتہ سال متعدد دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر منظور عالم نے عدالت کو بتایا کہ بیورو کو 8 اپریل 2025 کو ایک سورس رپورٹ ملی جس میں کنٹریکٹرز سیکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ کے اکاؤنٹ سے 36.63 ارب روپے سے زیادہ کی مبینہ خردبرد کا الزام لگایا گیا تھا۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ سرکاری اہلکاروں، بینک عملے اور نجی ٹھیکیداروں کے ایک مبینہ نیٹ ورک نے حسابی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا اور متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ رضی اللہ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر میں سینئر آڈیٹر اور اپر کوہستان اسکینڈل کی آڈٹ کمیٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے دیگر ملزمان کی معاونت کی۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آنے کے باوجود اہم معلومات چھپائیں یا خاموشی اختیار کی، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان جاری رہا۔ یہ نیب کے الزامات اور عدالتی دلائل ہیں؛ مقدمے کا حتمی ثبوت نہیں۔ مکمل ریفرنس، گواہی، دستاویزات اور دفاعی مؤقف کے بعد ہی ٹرائل میں ذمہ داری کا فیصلہ ہوگا۔
دفاعی وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کی گرفتاری کو تقریباً ایک سال گزر چکا، لیکن انکوائری اور تفتیش مکمل نہیں ہوئی اور اب تک ریفرنس بھی دائر نہیں کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ ٹرائل شروع یا جلد ختم ہونے کا امکان واضح نہیں اور کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ صرف تفتیش میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق نیب اس کیس میں 40 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر چکا ہے۔ بیورو کا دعویٰ ہے کہ سابق ہیڈ کلرک قیصر اقبال اور دیگر افراد نے مختلف منصوبوں کے نام پر ایسی رقوم نکلوائیں جن کے عوض مبینہ طور پر سول کام نہیں ہوا۔
اردو ہیڈ لائنز نے تمام مالی اعداد، کرداروں اور سازش کے دعووں کو نیب یا عدالتی کارروائی سے منسوب کیا ہے۔ عدالت کا موجودہ حکم صرف ضمانت سے متعلق ہے؛ ملزم کو مجرم قرار دینے، رقم کی حتمی بازیابی یا تمام شریک افراد کی ذمہ داری کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔




