قومی اسمبلی کے منگل کے اجلاس میں 20 نجی ارکان کے بلوں سمیت پورا 58 نکاتی قانون سازی ایجنڈا مؤخر کردیا گیا۔ ڈان کے مطابق ڈپٹی اسپیکر غلام شاہ نے بتایا کہ ایجنڈا ایک اتفاقِ رائے کے تحت ملتوی کیا جا رہا ہے، مگر انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ اتفاق کن جماعتوں یا افراد کے درمیان ہوا۔
جمعیت علمائے اسلام ف کی اپوزیشن رکن عالیہ کامران نے بعد میں شکایت کی کہ ان کی جماعت سے اس بارے میں مشاورت نہیں کی گئی۔ ڈپٹی اسپیکر نے تین درجن سے زیادہ ارکان کو point of order پر اپنی پسند کے موضوعات اٹھانے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں تقریباً تین گھنٹے زیادہ تر حلقہ جاتی اور مختلف قومی مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔
قانون سازی ایجنڈا مؤخر ہونے کے باوجود ایوان نے دو توجہ دلاؤ نوٹس زیرِ بحث لیے۔ ایک نوٹس نجی میڈیکل کالجوں کی زیادہ فیس اور چارجز سے متعلق تھا، جبکہ دوسرا ضلع لیہ میں دریائی کٹاؤ کے مسلسل مسئلے پر تھا۔ ایوان نے عید میلاد النبی کے حوالے سے ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی۔
اسمبلی قواعد کے تحت point of order بنیادی طور پر کارروائی کے دوران قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کے لیے ہوتا ہے، تاہم اجلاس میں ارکان نے بجلی کی بندش، حلقوں کے ترقیاتی مسائل، بلدیاتی حکومتوں کی فعالیت، خواتین کے خلاف تشدد اور مختلف صوبائی معاملات سمیت وسیع موضوعات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق ان نکات کا جواب دینے کے لیے حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا۔
تحریک انصاف کے ارکان نے اپنے حلقہ جاتی مسائل سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ ہونے کے الزام کے خلاف احتجاج کیا۔ اپوزیشن کی تقاریر قومی اسمبلی کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نشر نہ ہونے کی بات بھی رپورٹ میں شامل ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بجلی کی طویل بندشوں پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرمیلا فاروقی نے لاہور ساہیوال بہاولنگر موٹروے اور حیدرآباد سکھر موٹروے کے لیے وفاقی فنڈنگ کے فرق کا حوالہ دیتے ہوئے ترقیاتی ترجیحات پر سوال اٹھایا۔ یہ ایک رکن کا سیاسی و مالی موقف ہے، مکمل بجٹ آڈٹ نہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے نئے صوبوں کے معاملے پر وزیراعظم سے ایوان میں پالیسی بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ ن کے بابر نواز نے کہا کہ ہزارہ کے لوگ موجودہ انتظامی بندوبست میں نہیں رہنا چاہتے اور الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ یہ مطالبات ہیں؛ ایوان نے کسی نئے صوبے کی منظوری نہیں دی۔
قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس جمعہ کو صبح 11 بجے ہوگا۔ 58 نکاتی ایجنڈے کی نئی تاریخ یا اس پر قانون سازی کا نتیجہ آئندہ کارروائی سے واضح ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز مؤخر شدہ بلوں کو منظور یا مسترد شدہ قانون قرار نہیں دے رہا۔




