پارلیمان کی ویمن پارلیمنٹری کاکس نے الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹمز، جن میں ای سگریٹ اور ویپنگ مصنوعات شامل ہیں، کے لیے مجوزہ ضابطوں کو مزید سخت بنانے کی سفارش کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ارکان نے قانون سازوں سے کہا کہ نوجوانوں اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے نکوٹین کی مقدار، ذائقوں، مارکیٹنگ اور صحت سے متعلق انتباہات پر واضح پابندیاں شامل کی جائیں۔
کاکس نے ای مائع میں نکوٹین کی زیادہ سے زیادہ حد 20 ملی گرام فی ملی لیٹر مقرر کرنے کی تجویز دی۔ اس حد کی خلاف ورزی پر سخت مالی اور انتظامی سزاؤں کی سفارش بھی کی گئی۔ یہ ابھی سفارشات ہیں، نافذ قانون یا حتمی ضابطہ نہیں؛ ان کی قانونی حیثیت متعلقہ وزارت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور پارلیمانی عمل کے بعد متعین ہوگی۔
ارکان نے متبادل یا پرکشش ذائقوں پر پابندی کی تجویز پیش کی کیونکہ ایسے ذائقے کم عمر صارفین کے لیے مصنوعات کو زیادہ پرکشش بنا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اشتہارات، اسپانسرشپ، پروموشن اور نوجوانوں کو ہدف بنانے والی مارکیٹنگ محدود یا ممنوع کرنے کی بات کی گئی۔ رپورٹ میں کسی خاص برانڈ یا کمپنی کا نام شامل نہیں۔
موجودہ تجاویز میں پیکنگ پر صحت کے انتباہ کا رقبہ 60 فیصد سے بڑھا کر 70 سے 80 فیصد تک کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ کاکس نے تعلیمی اداروں کے ارد گرد کم از کم 50 میٹر کے علاقے میں سخت اسموک فری پابندی پر زور دیا، تاکہ اسکولوں اور نوجوانوں تک ایسی مصنوعات کی نمائش اور رسائی محدود کی جا سکے۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مجوزہ ضابطوں پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ساتھ تفصیلی رابطہ ضروری ہے۔ قانون سازوں نے آگاہی مہم، نگرانی اور قواعد کے نفاذ کو محض تحریری پابندیوں جتنا ہی اہم قرار دیا۔ ضابطہ بننے کے بعد بھی مارکیٹ نگرانی، آن لائن فروخت اور عمر کی تصدیق جیسے عملی مسائل الگ انتظامی اقدامات مانگیں گے۔
ای نکوٹین مصنوعات پر بحث میں دو مختلف پہلو سامنے آتے ہیں: بالغ تمباکو نوش افراد کے لیے ممکنہ متبادل کے دعوے، اور نوجوانوں میں نکوٹین کی عادت و صحت کے خطرات۔ موجودہ پارلیمانی سفارشات کا مرکز نوجوانوں کی حفاظت اور مارکیٹنگ پر کنٹرول ہے۔ رپورٹ میں کسی طبی علاج یا ترکِ تمباکو پروگرام کے متبادل کے طور پر ان مصنوعات کی منظوری نہیں دی گئی۔
اردو ہیڈ لائنز نے تمام حدود اور پابندیوں کو ویمن پارلیمنٹری کاکس کی تجاویز کے طور پر بیان کیا ہے۔ جب تک متعلقہ ادارے حتمی ضابطہ جاری نہ کریں، 20 ملی گرام حد، ذائقوں کی پابندی، انتباہی رقبہ اور 50 میٹر دائرہ نافذ شدہ قومی قانون نہیں سمجھے جائیں گے۔




