کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بورڈ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 152 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے، جسے ادارے کا اب تک کا سب سے بڑا سالانہ بجٹ قرار دیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مجموعی رقم میں 112 ارب روپے نئے اور جاری ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 40 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔
منظور شدہ تخمینے کے مطابق سی ڈی اے کو 152.5 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ اس میں 74 فیصد خود مالیاتی ذرائع سے حاصل ہونا ہے، جن میں پلاٹوں کی نیلامی اور مختلف ٹیکس و فیس شامل ہیں۔ متوقع آمدن کا 19 فیصد ریونیو وصولیوں اور سات فیصد ابتدائی بیلنس سے پورا کیا جائے گا۔ یہ اعداد بجٹ تخمینے ہیں؛ حقیقی وصولیاں مالی سال کے دوران نیلامیوں، مارکیٹ حالات اور وصولی کی کارکردگی کے مطابق بدل سکتی ہیں۔
اخراجات کی تقسیم میں تقریباً 74 فیصد ترقیاتی منصوبوں، 24 فیصد غیر ترقیاتی مدات اور دو فیصد میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ترقیاتی حصے میں 55 ارب روپے ترجیحی منصوبوں، 16 ارب روپے 63 نئے منصوبوں، 13.5 ارب روپے 246 جاری کاموں، سات ارب روپے واجبات اور 19 ارب روپے مختلف مجموعی انتظامات کے لیے رکھے گئے ہیں۔
یہ بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 90.2 ارب روپے کا بجٹ منظور ہوا تھا جسے بعد میں 81 ارب روپے تک نظرثانی کیا گیا۔ نئے بجٹ کے حجم کے ساتھ اصل امتحان فنڈز کے بروقت اجرا، منصوبوں کی تکمیل، آمدن کے اہداف اور غیر ترقیاتی اخراجات کی نگرانی ہوگا۔
بورڈ نے اجلاس میں صفائی کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے کے پیکیج ٹو کی بھی منظوری دی۔ یہ انتظام چار برس کے لیے ہوگا اور اس کا مقصد دارالحکومت کے متعلقہ علاقوں میں فضلہ جمع کرنے اور صفائی کی خدمات کو منظم کرنا ہے۔ بجٹ منظوری کے باوجود ٹھیکوں کی شرائط، کارکردگی کے پیمانوں اور نگرانی کی عملی تفصیل متعلقہ خریداری و نفاذ کے مراحل میں واضح ہوگی۔
سی ڈی اے بورڈ نے کُری کے مقام پر دانش اسکول کے لیے اضافی 10 ایکڑ زمین کی منظوری بھی دی۔ اس سے منصوبے کے لیے دستیاب رقبہ بڑھے گا، تاہم تعمیر، لاگت، داخلہ پالیسی اور تکمیل کی مدت کے بارے میں الگ منصوبہ جاتی فیصلے درکار ہوں گے۔
اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بجٹ کی اہمیت سڑکوں، پانی، نکاسی، پارکوں، ٹرانسپورٹ، صفائی اور شہری منصوبہ بندی کی خدمات سے براہ راست جڑی ہے۔ 112 ارب روپے کے ترقیاتی حصے کی افادیت صرف مختص رقم سے نہیں بلکہ منصوبوں کے انتخاب، شفاف خریداری، وقت پر تکمیل اور عوامی نتائج سے جانچی جائے گی۔
اردو ہیڈ لائنز نے بجٹ کے اعداد کو سی ڈی اے بورڈ کی منظوری سے متعلق ڈان کی براہ راست رپورٹنگ کی بنیاد پر پیش کیا ہے۔ منظور شدہ بجٹ خرچ کی فوری تکمیل نہیں ہوتا، اس لیے منصوبوں کی پیش رفت اور اصل مالی نتائج کو آئندہ سرکاری ریکارڈ سے الگ جانچا جائے گا۔




