پیرس: فرانس میں مزدور یونینوں نے اجرتوں، مہنگائی، عوامی خدمات اور تعلیمی حالات کے خلاف ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے، جبکہ کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج بھی اس تحریک کے ساتھ جڑ گیا ہے۔ حکام کے مطابق مختلف شہروں میں مجموعی طور پر پانچ سے سات لاکھ افراد کے سڑکوں پر آنے کا امکان ہے، جبکہ پیرس میں تقریباً 80 ہزار مظاہرین کی شرکت متوقع ہے۔

ہڑتال کی اپیل سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی یونینوں کے علاوہ ریلوے، سرکاری اسپتالوں اور ڈاک کے شعبوں کی نمائندہ تنظیموں نے بھی کی ہے۔ یونینوں کے مطالبات میں کم از کم اجرت میں اضافہ، عمومی تنخواہوں میں بہتری، ٹیکس اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی حالات شامل ہیں۔ فرانس میں طلبہ کی حالیہ تحریک اسکولوں اور جامعات میں سہولیات اور تدریسی حالات کے خلاف شروع ہوئی تھی، لیکن بڑھتی مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف وسیع تر ناراضی نے اسے زیادہ بڑی سماجی تحریک میں بدل دیا۔

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ تشدد یا بدامنی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ گزشتہ احتجاجی مراحل میں بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور آنسو گیس و واٹر کینن استعمال کیے گئے تھے۔ پولیس کارروائی کے طریقہ کار پر تنقید کے بعد داخلی تحقیقات بھی شروع کی گئی ہیں۔

پیرس انتظامیہ نے پلیس دی لا باستیل سے پلیس دی لا کونکورڈ تک مجوزہ مرکزی راستے پر مارچ کی اجازت نہیں دی اور مظاہرین کے لیے شہر کے مرکز سے دور متبادل راستہ مقرر کیا۔ بعض یونینوں نے اس فیصلے کو احتجاج کی آزادی محدود کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ راستوں کی پابندیاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

موجودہ ہڑتال کا اثر ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور ڈاک سمیت متعدد عوامی خدمات پر پڑنے کا امکان ہے۔ احتجاج کے حجم اور حکومت کے ردعمل سے یہ واضح ہوگا کہ حالیہ طلبہ تحریک عارضی دباؤ تک محدود رہتی ہے یا فرانس میں اجرت، مہنگائی اور عوامی خدمات کے معاملات پر ایک وسیع سیاسی و سماجی تنازع کی شکل اختیار کرتی ہے۔ مظاہرین کی حتمی تعداد اور کسی ممکنہ بدامنی کے بارے میں ابتدائی اندازوں کی آزادانہ تصدیق احتجاج مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔