واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور کینیڈا ایک نئے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاملات پر ابھی مزید کام ہونا باقی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، مگر کسی حتمی سمجھوتے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکا اور کینیڈا دنیا کے بڑے دوطرفہ تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں اور دونوں معیشتوں کی آٹو صنعت، توانائی، زراعت اور مینوفیکچرنگ سپلائی چینز گہرائی سے منسلک ہیں۔ اس لیے محصولات یا مارکیٹ رسائی میں تبدیلی کا اثر سرحد کے دونوں جانب کاروباروں اور صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔ حالیہ مذاکرات کا مرکز باہمی تجارت میں رکاوٹیں کم کرنے اور ان شعبوں میں اختلافات حل کرنے پر ہے جہاں دونوں حکومتیں اپنے ملکی صنعت کاروں کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔
ٹرمپ نے مذاکرات کے بارے میں مثبت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین معاہدے کے قریب ہیں۔ کارنی نے اس امید کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ تفصیلات طے کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ سفارتی و تجارتی مذاکرات میں یہ فرق اہم ہے کیونکہ سیاسی سطح پر پیش رفت کا اعلان ہونے کے باوجود قانونی متن، محصولاتی شیڈول، استثنا اور نفاذ کے طریقہ کار پر اتفاق الگ مرحلہ ہوتا ہے۔
کینیڈا کے لیے امریکی منڈی انتہائی اہم ہے، جبکہ امریکا کینیڈا سے توانائی، صنعتی خام مال اور تیار مصنوعات کی بڑی مقدار حاصل کرتا ہے۔ کسی نئے معاہدے یا ترمیم شدہ تجارتی فریم ورک کے نتیجے میں کمپنیوں کی سرمایہ کاری، سرحد پار پیداوار اور قیمتوں کے فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں حکومتوں پر اپنے اپنے کاروباری حلقوں، مزدور تنظیموں اور صوبائی یا ریاستی مفادات کا دباؤ بھی رہتا ہے۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدہ کب اور کن حتمی شرائط کے ساتھ طے پائے گا۔ ٹرمپ کا بیان مذاکرات کی سمت کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی امید ظاہر کرتا ہے، جبکہ کارنی کا ردعمل یہ واضح کرتا ہے کہ اہم تفصیلات ابھی زیر بحث ہیں۔ حتمی نتیجے کی تصدیق اس وقت ہوگی جب دونوں حکومتیں مشترکہ متن یا باقاعدہ تجارتی اعلان جاری کریں گی۔

