نیروبی: ورلڈ بینک نے کینیا کی 2026 کی اقتصادی شرح نمو کے بارے میں اپنی پیش گوئی بہتر کر دی ہے، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ بدعنوانی، کمزور مالی نظم اور سرکاری شعبے کی کارکردگی سے متعلق مسائل پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کی تازہ جائزہ رپورٹ میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری اور روزگار بڑھانے کے لیے شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دی جائے۔

کینیا مشرقی افریقہ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں قرض، ٹیکس پالیسی اور زندگی کی بڑھتی لاگت اس کی معاشی بحث کے مرکزی موضوعات رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق بہتر زرعی پیداوار، خدمات کے شعبے اور بعض میکرو اکنامک اشاریوں میں استحکام نمو کو سہارا دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی قرض اور حکومتی آمدن کے درمیان توازن برقرار رکھنا پالیسی سازوں کے لیے اہم چیلنج ہے۔

بینک نے خاص طور پر بدعنوانی کے خطرات کم کرنے اور سرکاری خریداری، محصولات اور عوامی اخراجات میں احتساب بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال سے بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے لیے دستیاب گنجائش بہتر ہو سکتی ہے۔ یہ سفارشات کسی مخصوص فرد کے خلاف بدعنوانی کا عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ حکمرانی کے نظام سے متعلق پالیسی تشخیص ہیں۔

کینیا کی حکومت گزشتہ عرصے میں بجٹ خسارہ کم کرنے اور قرض کے بوجھ کو قابو میں رکھنے کے لیے محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہے، مگر ٹیکس اقدامات پر عوامی ردعمل نے اصلاحات کو سیاسی طور پر حساس بنا دیا۔ عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ مالی استحکام کے اقدامات کس طرح ایسے انداز میں کیے جائیں کہ کم آمدن والے گھرانوں اور چھوٹے کاروباروں پر غیر متناسب بوجھ نہ پڑے۔

شرح نمو کی بہتر پیش گوئی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے، لیکن یہ ضمانت نہیں کہ روزگار، حقیقی آمدن اور غربت کے اشاریے اسی رفتار سے بہتر ہوں گے۔ ورلڈ بینک نے اسی لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری، کاروباری اعتماد، حکمرانی اور مالیاتی نظم کو ایک دوسرے سے منسلک عوامل کے طور پر پیش کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اصل اقتصادی کارکردگی عالمی طلب، موسمی حالات، شرح سود، قرض کی ادائیگیوں اور حکومت کی اصلاحاتی رفتار سے متاثر ہوگی۔