واشنگٹن: امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو اس ہفتے افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے سے روک دیا ہے۔ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کی جج ویلری کیپرونی نے یہ حکم ان اطلاعات کے بعد دیا کہ بڑی تعداد میں افغان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک سینئر اہلکار کرسٹوفر جارج نے عدالت کو بتایا کہ اس ہفتے افغان شہریوں کو افغانستان یا پاکستان بھیجنے کے لیے کوئی طے شدہ یا تصدیق شدہ چارٹر یا کمرشل پرواز موجود نہیں۔ اس بیان کے باوجود عدالت نے فوری اخراج کے خلاف حفاظتی حکم برقرار رکھا، جس سے زیر بحث افراد کو کم از کم عارضی قانونی مہلت مل گئی۔

امریکی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ افغان ایویک نامی امدادی تنظیم کے مطابق ممکنہ فہرست میں ایسے افغان خاندانوں کے افراد بھی شامل تھے جن کے رشتہ دار 2021 میں کابل میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سے پہلے امریکی فوج یا امریکی مشن کے ساتھ کام کر چکے تھے۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ان افراد کی واپسی ان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے عمومی معافی کا اعلان کر رکھا ہے اور بارہا کہا ہے کہ سابق مخالفین محفوظ طور پر واپس آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سابق سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز سے وابستہ افراد کے خلاف ماورائے عدالت ہلاکتوں، حراستوں اور بدسلوکی کی رپورٹس ریکارڈ کی ہیں۔ اس پس منظر میں ممکنہ ملک بدری کے انسانی حقوق اور تحفظ سے متعلق پہلو عدالتی کارروائی کا اہم سیاق بنے ہوئے ہیں۔

عدالت کا موجودہ حکم مستقل امیگریشن حیثیت دینے یا ملک بدری کے تمام مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ فوری طور پر افغانستان یا پاکستان منتقل کیے جانے کے منصوبے کو روکتا ہے، جبکہ انفرادی مقدمات اور امریکی حکومت کی آئندہ قانونی کارروائی الگ مراحل میں جاری رہ سکتی ہے۔ معاملے کی حساس نوعیت کے باعث یہ فرق اہم ہے کہ عدالت نے خطرے کے خدشات کے دوران فوری اخراج روکا ہے، نہ کہ تمام متاثرہ افراد کو حتمی طور پر امریکا میں رہنے کا حق دے دیا ہے۔