پیرس: فرانس میں اسکولوں کی صورت حال اور تعلیمی سہولتوں کے حوالے سے جاری طلبہ احتجاج میں جمعرات 8 اکتوبر 2026 کو ملک بھر میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں میں تقریباً 71 ہزار 500 افراد شامل ہوئے اور پولیس نے 500 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران پولیس اور بعض مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ تقریباً 55 ہزار افراد نے تعلیمی اداروں کے باہر احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کی، جبکہ دیگر افراد نے مختلف ریلیوں میں حصہ لیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے فرانسیسی ہائی اسکولوں کے بعض طلبہ سینکڑوں اداروں کے داخلی راستے بند کر کے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ جمعرات کو اسکولوں اور جامعات کے طلبہ نے مزید اجتماعات کی اپیل کی، جبکہ بعض قومی تعلیمی تنظیموں نے عمومی ہڑتال کا مطالبہ بھی کیا۔

دارالحکومت پیرس کے علاوہ دیگر بڑے شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ پیرس کے تاریخی باسٹیل چوک پر ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ بعض طلبہ باسٹیل کی یادگار پر چڑھے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے قومی ترانہ گایا۔ مختلف مقامات پر مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے، تاہم کچھ علاقوں میں آگ لگانے اور بس اسٹاپوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات کو تمام مظاہرین کے رویے سے منسوب کرنا درست نہیں۔

پولیس نے بعض مقامات پر آنسو گیس، لاٹھیوں اور دوسرے ہجوم منتشر کرنے والے آلات کا استعمال کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی جانب سے طاقت کے غیر متناسب استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ حکومتی موقف اور ان الزامات میں فرق رکھنا ضروری ہے، کیونکہ رپورٹ میں تمام انفرادی واقعات پر کسی عدالتی یا غیر جانب دار تحقیق کے حتمی نتائج بیان نہیں کیے گئے۔ حراست میں لیا جانا بھی جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں۔

فرانس کے وزیراعظم سباستیاں لوکورنو نے بدھ کی شب ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ حکومت اکتوبر کے آخر تک تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے منصوبہ پیش کرے گی۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ سکیورٹی اہلکاروں کو نوجوانوں کے ساتھ تصادم کے احکامات دیے گئے تھے۔ تاہم مظاہروں میں شریک بعض طلبہ نے حکومتی وعدوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

وزیر تعلیم ایڈوارڈ جیفرے نے اساتذہ کی عدم موجودگی کی صورت میں متبادل انتظامات سے متعلق ہنگامی منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ طلبہ کی مرکزی تنظیموں اور متعلقہ حکام کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی مطالبات بہتر تعلیمی حالات اور تعلیمی نظام کے انتظام سے جڑے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں کسی حتمی سمجھوتے یا تمام احتجاجی سرگرمیوں کے ختم ہونے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

فرانس میں احتجاج کی یہ تازہ لہر حکومت اور تعلیمی برادری کے درمیان اعتماد کے بحران کی نشان دہی کرتی ہے۔ سرکاری طور پر بتائی گئی شرکت اور حراست کی تعداد کو رپورٹ کے وقت دستیاب اعداد سمجھنا چاہیے، جو بعد میں نئی اطلاعات کے مطابق بدل بھی سکتے ہیں۔