لندن: برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے آٹھ اکتوبر 2026 کو بتایا ہے کہ کیمبرج شائر میں رائل ایئر فورس کے ایک اڈے کے قریب گرفتار دو لیٹوین شہریوں کے بارے میں قومی سلامتی کے قانون کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں افراد کو جمعرات کی صبح گرفتار کیا گیا۔ پولیس کی کارروائی تفتیش کا مرحلہ ہے؛ اس وقت کسی عدالت نے ان افراد کے خلاف الزام ثابت نہیں کیا۔

پولیس کے بیان کے مطابق ابتدا میں دونوں افراد کو ممنوعہ مقام میں غیر مجاز داخلے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں 2023 کے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت ایک مبینہ جرم کے شبہے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ متعلقہ قانونی شق ایسے ممنوعہ مقام میں اس مقصد سے داخل ہونے کے بارے میں ہے جو برطانیہ کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہو۔ اس دفعہ کے تحت گرفتاری کا مطلب یہ نہیں کہ تفتیش کے تمام سوالات حل ہو گئے ہیں یا عدالت نے جرم کا فیصلہ دے دیا ہے۔

لندن میں انسداد دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلیناگن نے بتایا کہ حکام کو فوجی تنصیبات سے متعلق حالیہ واقعات پر عوام کی تشویش کا علم ہے، لیکن اس مرحلے پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ یہ گرفتاریاں گزشتہ ہفتے رائل ایئر فورس کے فیئر فورڈ اڈے پر پیش آنے والے الگ واقعے سے منسلک ہیں۔ فیئر فورڈ کے واقعے کے بارے میں برطانوی حکومت نے ایران سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ پولیس نے واضح طور پر دونوں معاملات کو الگ رکھا ہے، اس لیے نئی گرفتاریوں کو ایران سے منسوب کرنا دستیاب شواہد کے خلاف ہوگا۔

روئٹرز کے مطابق موجودہ تحقیقات کے سلسلے میں پیٹربرو کے علاقے میں دو پتوں پر تلاشی لی جارہی ہے۔ پولیس نے ایک لاوارث گاڑی بھی تحویل میں لی جسے بم ناکارہ بنانے والے ماہرین نے جانچا، تاہم معائنے میں تشویش کا کوئی سامان نہیں ملا۔ یہ تفصیل اہم ہے کیونکہ گاڑی کی جانچ کو دھماکا خیز مواد کی دریافت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

رائل ایئر فورس کے اڈوں کے قریب پیش آنے والے ایسے واقعات میں پولیس کو قومی سلامتی اور عام فوجداری قوانین دونوں پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کرنا پڑتے ہیں۔ حکام نے فی الحال مشتبہ افراد کے ممکنہ مقاصد، کسی تنظیم سے تعلق یا مستقبل کی قانونی کارروائی کے بارے میں قطعی نتیجہ جاری نہیں کیا۔ اس لیے رپورٹ میں گرفتاری، شبہ اور جاری تفتیش کو واضح طور پر عدالتی فرد جرم یا سزا سے الگ رکھا گیا ہے۔

اس واقعے میں آئندہ پیش رفت کا انحصار پولیس کی تفتیش، شواہد اور کسی ممکنہ عدالتی کارروائی پر ہوگا۔ برطانوی حکام کی موجودہ اطلاع کے مطابق بنیادی تصدیق شدہ بات دو گرفتاریوں اور متعلقہ مقامات کی تلاشی کی ہے، جبکہ بڑے قومی سلامتی کے خدشات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔