لندن: برطانیہ نے آٹھ اکتوبر 2026 کو روس سے متعلق پابندیوں کے نئے پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں تیل کی ترسیل، مالیاتی لین دین اور روسی جنگی صنعت کو ضروری سامان فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد روسی تیل کی برآمدات پر عائد قدغنوں سے بچنے اور مالیاتی خدمات پر پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے ممکنہ راستے محدود کرنا ہے۔
اعلان کے مطابق مزید 12 آئل ٹینکر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ برطانوی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ ہیں اور تیل کی برآمدات سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ شیڈو فلیٹ کا لفظ ان جہازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کے آپریشن، ملکیت یا تجارتی انتظام پر پابندیوں کے نفاذ کے تناظر میں سوال اٹھتے ہیں۔ برطانیہ کی فہرست میں شامل ہونا حکومتی پابندی کا فیصلہ ہے، تاہم متعلقہ جہازوں کے خلاف ہر الزام کو کسی عدالت کا حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مالیاتی شعبے میں تین کرپٹو کرنسی ایکسچینجز اور دو ادائیگی پلیٹ فارم بھی نئی پابندیوں کے دائرے میں لائے گئے ہیں۔ برطانیہ کو شبہ ہے کہ ان ذرائع سے روس پر نافذ مالی پابندیوں سے بچنے میں مدد مل رہی تھی۔ وزارت خارجہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے دو اداروں نے اے سیون نامی مبینہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورک کے لیے لین دین کو ممکن بنایا یا اس کی سہولت فراہم کی۔ یہ تفصیلات برطانوی حکومت کے بیان پر مبنی ہیں۔
اس کے علاوہ 17 افراد اور اداروں کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسی مصنوعات کی فراہمی میں شریک ہیں جنہیں برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین روسی جنگی کوششوں کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ ان میں روس میں قائم ایسے درآمد کنندگان بھی شامل ہیں جو مشینی آلات، الیکٹرانکس اور میزائل و ڈرون کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد فراہم کرتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق لندن میں روسی سفارت خانے سے ان پابندیوں پر فوری ردعمل نہیں مل سکا تھا۔ اس لیے رپورٹ میں روسی مؤقف کی عدم دستیابی کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ نئے اقدامات روس اور مغربی ممالک کے درمیان یوکرین جنگ اور توانائی کی برآمدات پر جاری کشیدگی کا حصہ ہیں۔ پابندیوں کے عملی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ متعلقہ جہازوں، مالیاتی اداروں اور سپلائی چین کے خلاف قواعد کس طرح نافذ ہوتے ہیں اور دیگر ممالک ان کے ساتھ کتنا تعاون کرتے ہیں۔

