ایمسٹرڈیم: بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے آٹھ اکتوبر 2026 کو بتایا کہ فلپائن کے سابق صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے اپنی صحت کی حالت کے باوجود مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق عدالت کے ججوں نے طبی ماہرین کی رپورٹ دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ ڈوٹیرٹے کی سماعت میں شرکت کی اہلیت کے بارے میں ہے، ان کے خلاف عائد الزامات کے درست یا غلط ہونے پر کوئی حتمی عدالتی نتیجہ نہیں۔
81 سالہ ڈوٹیرٹے پر ان کی منشیات کے خلاف مہم سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت قتل اور قتل کی کوشش کے الزامات ہیں۔ عدالت میں متعلقہ کارروائی 30 نومبر کو شروع ہونے والی ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ 2016 سے 2022 کے دوران منشیات کے خلاف اقدامات سے جڑی کارروائیوں میں کم از کم 76 افراد کی ہلاکت کی مجرمانہ ذمہ داری ڈوٹیرٹے پر عائد ہوتی ہے۔ استغاثہ کے مطابق اسی وسیع مہم کے دوران مجموعی طور پر ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔ یہ الزامات ہیں اور ان پر کسی حتمی سزا کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
سابق صدر کے وکلا نے پہلے عدالت کے سامنے دلیل دی تھی کہ ڈوٹیرٹے کی ذہنی صلاحیت میں کمی آئی ہے اور وہ مقدمے کا مؤثر طور پر سامنا نہیں کر سکتے۔ ججوں نے طبی ماہرین کے پینل کی رپورٹ کی بنیاد پر اس اعتراض کو قبول نہیں کیا۔ ماہرین نے بتایا کہ عمر اور کمزوری کے مطابق ڈوٹیرٹے کی جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں کچھ سست روی موجود ہے، تاہم وہ کارروائی سمجھ سکتے ہیں اور اپنے دفاع میں وکلا کی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے اس نتیجے کی بنیاد پر کہا کہ ڈوٹیرٹے مقدمے کے دوران اپنے منصفانہ سماعت کے حقوق مؤثر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ قانونی معیار اہم ہے کیونکہ کسی ملزم کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی نوعیت سمجھ سکے اور دفاعی ٹیم کے ساتھ کام کر سکے۔ عدالت کے تازہ فیصلے نے صرف اس طبی و قانونی سوال کو حل کیا ہے، نہ کہ بنیادی فوجداری الزامات کا فیصلہ کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق فروری میں ڈوٹیرٹے کے اس وقت کے وکیل نکولس کافمین نے مقدمے کے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا تھا۔ یہ دفاعی مؤقف استغاثہ کے الزامات سے مختلف ہے اور دونوں کا فیصلہ عدالت میں قانونی شواہد کی بنیاد پر ہونا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمات کی مکمل کارروائی عمومی طور پر کئی برس جاری رہ سکتی ہے۔
اگر جرم ثابت ہوا تو ڈوٹیرٹے کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، لیکن اس مرحلے پر وہ محض الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئندہ سماعتوں میں استغاثہ اور دفاع کے دلائل کے بعد ہی ذمہ داری اور کسی ممکنہ سزا کا سوال طے ہوگا۔
