پیرس: فرانس میں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے اسکولوں میں عملے کی کمی، عمارتوں کی خراب حالت اور تعلیمی سہولتوں سے متعلق مطالبات کے حق میں ملک گیر مظاہرے کیے، جس سے بڑی تعداد میں ہائی اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی لہر کا اب تک کا سب سے بڑا دن تھا۔

مارسی، نانٹ اور لیون سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے صبح کے وقت شروع ہوئے جبکہ پیرس میں بڑے اجتماع کی توقع کی گئی۔ ہائی اسکول اسٹوڈنٹس یونین نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1,800 ہائی اسکولوں کو بلاک کیا گیا یا انہیں دن کے لیے بند ہونا تھا۔ وزارت تعلیم نے فوری طور پر اس تعداد کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی، اس لیے یہ اعداد طلبہ تنظیم کے دعوے کے طور پر ہی دیکھے جانے چاہییں۔

احتجاج کے اہم مطالبات میں غیر حاضر اساتذہ کے متبادل کا بندوبست، صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک طویل اسکول اوقات کا جائزہ، دوپہر کے وقفے میں بہتری اور پرانی اسکول عمارتوں کی مرمت شامل ہیں۔ وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے وزرا کو ان مطالبات پر کام کرنے کی ہدایت دی ہے اور اکتوبر کے اختتام تک ابتدائی تجاویز طلب کی ہیں۔

احتجاجی لہر کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد ہزاروں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور پولیس اہلکاروں اور نوجوانوں کے زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ شمالی فرانس میں ایک 15 سالہ نوجوان کے شدید زخمی ہونے کے واقعے کی تفصیلات پر بھی توجہ مرکوز ہے؛ مقامی حکام نے واقعے کے مکمل حالات پر فوری حتمی موقف دینے سے گریز کیا۔

فرانسیسی حکومت کو تعلیمی مطالبات کے ساتھ مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے، کیونکہ بجٹ خسارے اور بلند قرض لاگت کے باعث نئی سرکاری اخراجات کی گنجائش محدود ہے۔ احتجاج ایسے وقت جاری ہے جب ملک آئندہ صدارتی انتخاب کے قریب بڑھ رہا ہے، جس سے تعلیمی مسائل سیاسی بحث کا حصہ بھی بن گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وعدہ کردہ تجاویز سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ عملے، اوقات کار اور اسکول عمارتوں سے متعلق مطالبات پر کون سے عملی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں۔