واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ کونسل میں اصلاحات کا بہتر راستہ منتخب اور غیر مستقل نشستوں میں اضافہ ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد ایسی توسیع کی حمایت کرتا ہے جس سے زیادہ ممالک کو انتخاب کے ذریعے کونسل میں نمائندگی ملے اور رکن ممالک کے سامنے جوابدہی برقرار رہے۔

عاصم افتخار احمد، جو جلد پاکستان کے نئے سیکریٹری خارجہ کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں، نے پاکستان کی 2025 سے 2026 تک سلامتی کونسل کی رکنیت کے دوران سامنے آنے والے اہم عالمی بحرانوں اور سفارتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے یہ مؤقف بیان کیا۔ پاکستان طویل عرصے سے سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے غیر مستقل منتخب نشستوں میں توسیع کا حامی رہا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق مستقل رکنیت میں اضافہ کونسل کے موجودہ عدم توازن کو مزید مستحکم کر سکتا ہے، جبکہ منتخب نشستوں کی تعداد بڑھانے سے مختلف خطوں کے زیادہ ممالک کو محدود مدت کے لیے نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی اصلاحات پر اقوام متحدہ میں کئی برس سے مذاکرات جاری ہیں، مگر مستقل رکنیت، ویٹو اختیار اور علاقائی نمائندگی کے سوالات پر رکن ممالک میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

سفیر عاصم افتخار نے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ بین الاقوامی تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے منشور اور پرامن سفارتی طریقوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اسلام آباد عالمی اداروں میں اس مسئلے کو اٹھاتا رہے گا۔

پاکستان کی موجودہ سلامتی کونسل مدت 2025 اور 2026 پر محیط ہے۔ اس عرصے میں اسلام آباد نے مشرق وسطیٰ، افغانستان، دہشت گردی، امن مشنز اور دیگر عالمی سلامتی کے موضوعات پر کونسل کے مباحث میں حصہ لیا ہے۔ عاصم افتخار احمد کے مطابق پاکستان نے تنازعات کے حل اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔

سلامتی کونسل کی اصلاحات کا معاملہ اقوام متحدہ کے سب سے طویل اور پیچیدہ ادارہ جاتی مباحث میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کا تازہ بیان اس کی پہلے سے قائم پالیسی کا تسلسل ہے اور اس میں زور اس بات پر ہے کہ نمائندگی میں اضافہ انتخابی اور قابل احتساب نشستوں کے ذریعے کیا جائے، نہ کہ مزید ممالک کو مستقل حیثیت دے کر۔