نیروبی: کینیا کی وزارت صحت نے ملک میں ایبولا وائرس کے پہلے تصدیق شدہ کیس کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت عدن دوالے کے مطابق متاثرہ شخص کینیائی شہری تھا جو جمہوریہ کانگو میں رہ رہا تھا اور 3 اکتوبر کو نیروبی پہنچا تھا۔ حکام نے بتایا کہ مریض کی جانچ میں ایبولا کی تصدیق ہوئی اور بعد میں اس کا انتقال ہو گیا۔

وزیر صحت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک مریض کے 28 قریبی رابطوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں خاندان کے افراد اور طبی کارکن شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت صرف اسی ایک نمونے کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے گھبراہٹ سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے نگرانی اور ردعمل کے نظام فعال ہیں۔

حکام کے مطابق متاثرہ شخص تقریباً ایک ماہ قبل بیمار ہوا تھا اور کانگو میں اس کا علاج بھی ہوا۔ بعد میں وہ زمینی راستے سے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا گیا اور وہاں سے پرواز کے ذریعے نیروبی پہنچا۔ کینیا پہنچنے کے بعد اس کی سکریننگ اور جانچ کی گئی۔ وزارت صحت نے رابطوں کی نگرانی شروع کر دی ہے تاکہ کسی ممکنہ ثانوی انفیکشن کی جلد نشاندہی کی جا سکے۔

کینیا میں اس سے قبل ایبولا کا کوئی تصدیق شدہ کیس ریکارڈ نہیں ہوا تھا۔ جمہوریہ کانگو ایک بڑے ایبولا پھیلاؤ سے نمٹ رہا ہے، جسے رپورٹ کے مطابق نسبتاً نایاب بنڈی بگیو قسم سے منسلک کیا گیا ہے۔ وائرس اس سے قبل یوگنڈا تک بھی پہنچا تھا، جہاں عالمی ادارہ صحت نے اگست میں وبا کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

ایبولا متاثرہ شخص کے جسمانی سیالات سے براہ راست رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ بخار، قے اور اسہال اس کی علامات میں شامل ہو سکتے ہیں اور شدید صورتوں میں خون بہنے کی پیچیدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ کینیا کے حکام نے کہا ہے کہ مزید کیسز کی صورت میں معلومات سرکاری نگرانی کے نظام کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔