پیرس: فرانس نے طالبان حکام کے ساتھ افغانستان کے بعض شہریوں کی واپسی کے طریقہ کار پر تکنیکی سطح کی بات چیت شروع کر دی ہے۔ ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے بدھ، 7 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ اس رابطے کا مقصد ایسے افغان باشندوں کی افغانستان براہ راست واپسی کے لیے انتظامی راستہ تلاش کرنا ہے جو فرانس میں غیر قانونی قیام کی صورتحال میں ہیں اور جنہیں حکام عوامی نظم کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ بات چیت کسی عمومی یا فوری اجتماعی ملک بدری کے حتمی فیصلے کے برابر نہیں۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس نے اگست 2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں آمد کے بعد سے ان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے اور کابل میں فرانسیسی سفارت خانہ بھی بند ہے۔ اس کے باوجود پیرس ان متعدد یورپی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو افغان شہریوں کی واپسی کے معاملات میں رفتار لانا چاہتے ہیں، بالخصوص ایسے افراد کے سلسلے میں جنہیں عدالتوں سے سزائیں ہو چکی ہوں۔ متعلقہ ذرائع نے بتایا کہ یہ رابطہ تکنیکی نوعیت کا ہے اور اسے طالبان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔
سفارتی ذریعے نے کہا کہ دوسرے یورپی ملکوں کی طرح فرانس بھی ان افغان شہریوں کی براہ راست واپسی کے انتظامات پر بات کر رہا ہے جن کے بارے میں عوامی نظم کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ سے یہ پوچھا گیا کہ آیا طالبان نمائندوں کے فرانس آنے کا امکان بھی زیر غور ہے، تاہم شائع شدہ رپورٹ میں وزارت کی جانب سے اس سوال کا جواب سامنے نہیں آیا۔ ممکنہ واپسیوں کی تعداد بھی باضابطہ طور پر نہیں بتائی گئی۔ ایک دوسرے باخبر ذریعے نے تعداد سینکڑوں تک ہونے کا امکان ظاہر کیا، مگر اسے تصدیق شدہ حکومتی ہدف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق طالبان حکام سے اس محدود رابطے کے باوجود افغانستان کے حوالے سے فرانس کی مجموعی پالیسی تبدیل نہیں ہو رہی اور افغان آبادی، خصوصاً خواتین، کی حمایت برقرار رہے گی۔ یورپی یونین نے بھی طالبان حکام کو رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس پس منظر میں انسانی حقوق کے اداروں نے طالبان سے روابط اور افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ طالبان کے دور میں افغان خواتین اور لڑکیوں پر تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اسی لیے ملک بدری کے کسی بھی معاملے میں انفرادی قانونی صورتحال اور متعلقہ حفاظتی ذمہ داریاں اہم ہو سکتی ہیں۔ فرانس اور طالبان حکام کے درمیان بات چیت کے آغاز سے ابھی کسی مخصوص تاریخ پر افراد کی واپسی یا اس عمل کی حتمی تعداد ثابت نہیں ہوتی۔ آئندہ باضابطہ فیصلوں سے اس رابطے کی عملی حدود واضح ہوں گی۔

