پیرس: فرانس میں عدالتی حکام نے لبنان میں 2024 کے ایک اسرائیلی فضائی حملے سے متعلق جنگی جرائم کی شکایت پر باضابطہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ فرانسیسی-لبنانی فنکار علی چیری کے وکیل کے مطابق پیرس جوڈیشل کورٹ کے جرائم انسانیت سے متعلق یونٹ نے کیس کی تفتیش کے لیے دو تحقیقاتی جج مقرر کیے ہیں۔ یہ کارروائی شکایت میں عائد الزامات کی عدالتی جانچ کا آغاز ہے اور اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کو جنگی جرم کا مجرم قرار نہیں دیا گیا۔
علی چیری نے رواں سال انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس کے ساتھ مل کر سول فریق کی حیثیت سے شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت 26 نومبر 2024 کو وسطی بیروت میں ایک 12 منزلہ رہائشی عمارت پر ہونے والی بمباری سے متعلق ہے، جس میں چیری کے 87 سالہ والد اور 77 سالہ والدہ سمیت سات شہری ہلاک ہوئے تھے۔ شکایت کے مطابق عمارت کی تین منزلیں تباہ ہوئیں۔
یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہوا تھا۔ شکایت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فورینزک آرکیٹیکچر کی اس واقعے سے متعلق تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اے ایف پی نے اسرائیلی فوج سے ردعمل طلب کیا، تاہم رپورٹ شائع ہونے تک اس مخصوص عدالتی پیش رفت پر جواب سامنے نہیں آیا تھا۔ اس لیے شکایت میں بیان کردہ قانونی الزامات کو ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
چیری کا کہنا ہے کہ انہوں نے کارروائی تمام شہری متاثرین کے وقار اور جواب دہی کے لیے شروع کی۔ ان کے وکیل نے لبنان میں اسرائیلی افواج کے مبینہ جنگی جرائم سے متعلق فرانسیسی عدالتی تحقیقات کو اپنی نوعیت کی پہلی پیش رفت قرار دیا۔ فرانس میں اس کے علاوہ بھی لبنان اور غزہ سے متعلق مختلف شکایات زیر غور ہیں، جن میں فرانسیسی شہریوں یا ان کے خاندانوں کے متاثر ہونے کے واقعات شامل ہیں۔
ایک دوسرے فرانسیسی-لبنانی شہری نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں اپریل کے حملوں میں اپنی والدہ، بہن اور دو بھانجوں یا بھتیجوں کی ہلاکت پر قانونی کارروائی کی درخواست کی ہے۔ ایک اور کیس میں جنوبی لبنان میں ایک خاندان کے قدیم زیتون کے درخت اکھاڑنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ فرانس کا قومی انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر دفتر جنگی جرائم کے مقدمات سے بھی نمٹتا ہے اور غزہ جانے والی امدادی کشتیوں کی روک تھام سے متعلق الزامات پر بھی تحقیقات شروع کر چکا ہے۔
موجودہ کیس میں تفتیشی جج شواہد، قانونی دائرہ اختیار اور شکایت میں عائد الزامات کا جائزہ لیں گے۔ تحقیقات شروع ہونا الزامات کی سنجیدگی اور عدالتی جانچ کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن فوجداری ذمہ داری، ممکنہ ملزمان یا کسی فرد کے خلاف فرد جرم کا فیصلہ بعد کے تفتیشی اور عدالتی مراحل سے مشروط ہوگا۔
