ڈھاکا: بنگلہ دیش میں ملبوسات کی صنعت سے وابستہ کارکنوں نے اجرتوں میں اضافے کے مطالبے پر منگل کو مسلسل چوتھے روز احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور صنعتی علاقوں میں متعدد فیکٹریوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ احتجاج ہفتے کو شروع ہوا تھا اور حکومت کی جانب سے اجرتوں کا جائزہ لینے کے لیے چھ رکنی ویج بورڈ قائم کرنے کے باوجود کارکنوں کا دباؤ برقرار ہے۔

رائٹرز کے مطابق ڈھاکا کے نواحی صنعتی مراکز اشولیا اور غازی پور کے ساتھ دارالحکومت کے میرپور علاقے میں بھی مظاہرے ہوئے۔ کارکنوں نے اہم شاہراہیں بند کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں اور پتھر پھینکے۔ اشولیا انڈسٹریل پولیس کے ایک افسر کے مطابق پولیس نے ہجوم منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈ استعمال کیے۔ مختلف جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔

کارکنوں کا بنیادی مطالبہ کم از کم ماہانہ اجرت موجودہ 12 ہزار 500 ٹکہ سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکہ، تقریباً 245 امریکی ڈالر، کرنا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ مسلسل مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے موجودہ تنخواہ کی حقیقی قوت خرید کم کردی ہے۔ حکومت نے یکم نومبر کو اجرتوں کا جائزہ لینے کے لیے بورڈ تشکیل دیا تھا، لیکن اس اقدام سے فوری طور پر مظاہرے ختم نہیں ہوئے۔

غازی پور اور اشولیا میں کئی فیکٹریوں نے عارضی طور پر کام روک دیا یا تعطیل کا اعلان کیا۔ ایک روز قبل تقریباً 700 فیکٹریوں کے بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ سویڈش ملبوساتی کمپنی ایچ اینڈ ایم نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کی سپلائی چین میں فی الحال بڑی رکاوٹ نہیں آئی اور محدود تعداد میں فیکٹریاں عارضی طور پر بند ہیں، تاہم کمپنی ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کنندہ ہے۔ اس شعبے میں تقریباً 40 لاکھ افراد کام کرتے ہیں اور تیار ملبوسات ملک کی برآمدی آمدنی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے طویل ہڑتال یا وسیع پیمانے پر فیکٹری بندش عالمی برانڈز کی سپلائی، برآمدی آرڈرز اور بنگلہ دیشی معیشت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں توانائی کی لاگت، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور اہم برآمدی منڈیوں میں نسبتاً کمزور طلب کا سامنا ہے۔ دوسری جانب مزدور تنظیمیں اور حقوق کے گروپ بڑھتی قیمتوں کے مطابق اجرت میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ویج بورڈ کی تشکیل مذاکرات کے لیے ادارہ جاتی راستہ فراہم کرتی ہے، لیکن نئی کم از کم اجرت کی حتمی سطح ابھی طے نہیں ہوئی۔