واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا 2026 کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی 4 ارب ڈالر سالانہ فنڈنگ روک دے گا اور اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ کئی ماہ پہلے اتفاق ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات فاکس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، تاہم ان کے بیان کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ٹرمپ کے مطابق اسرائیل اب اس مالی معاونت کا محتاج نہیں رہا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان طے پایا ہے کہ سال کے آخر تک یہ ادائیگی ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل کو مستقبل میں مدد درکار ہوئی تو امریکا تعاون کر سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس معاملے کو داخلی سیاست سے بھی جوڑا اور کہا کہ بعض ڈیموکریٹ اور بائیں بازو کے سیاست دان اسرائیل کے لیے امریکی مالی حمایت کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے جس 4 ارب ڈالر کی رقم کا ذکر کیا، اس کی درست قانونی یا بجٹ مد فوری طور پر واضح نہیں ہوئی۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ طویل مدتی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی جاتی ہے اور یہ انتظام 2028 تک چلنے کے لیے طے کیا گیا تھا۔ اس لیے صدر کے تازہ بیان اور موجودہ امدادی فریم ورک کے باہمی تعلق کی مزید سرکاری وضاحت درکار ہے۔

نیتن یاہو نے رواں سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک دہائی کے اندر اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے نکالنا چاہتے ہیں۔ بعد میں ایک امریکی رکن کانگریس کے نام خط میں بھی انہوں نے اسرائیل کو امداد لینے والے ملک سے شراکت دار کی حیثیت کی طرف منتقل کرنے کی بات کی تھی۔ ٹرمپ کا تازہ بیان اسی وسیع بحث کے دوران سامنے آیا ہے، لیکن اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس مخصوص معاہدے کی فوری تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

امریکا میں اسرائیل کے لیے مالی اور فوجی حمایت گزشتہ چند برسوں میں زیادہ نمایاں سیاسی موضوع بن چکی ہے۔ غزہ جنگ کے بعد امریکی رائے عامہ، بالخصوص ڈیموکریٹ ووٹرز میں اسرائیل کے لیے واشنگٹن کی حمایت پر تنقید بڑھی ہے۔ جون کے ایک کوئنی پیک یونیورسٹی سروے میں 48 فیصد مجموعی ووٹرز اور 66 فیصد ڈیموکریٹس نے کہا تھا کہ امریکا اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کرتا ہے۔

فی الحال ٹرمپ کے بیان کو صدارتی اعلان اور دعویٰ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ تمام متعلقہ بجٹ اور معاہداتی مراحل کی مکمل تفصیل۔ امریکی کانگریس، انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت کی مزید وضاحت سے ہی یہ واضح ہوگا کہ 2026 کے آخر میں کون سی مخصوص فنڈنگ ختم ہوگی، اس کے لیے قانون سازی یا بجٹ کارروائی درکار ہوگی یا نہیں، اور 2028 تک موجود امدادی مفاہمت پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔