پیرس: فرانس میں مہنگائی اور اجرتوں سے متعلق مطالبات پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی لہر کے دوران ہفتے کو طلبہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے ایک اور ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنایا، جبکہ یلو ویسٹس تحریک نے مرکزی پیرس میں حکام کی پابندی کے باوجود الگ ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق طلبہ گروپوں اور مزدور تنظیموں نے پیرس میں مہنگائی کے خلاف اور نوجوانوں کی حمایت میں باقاعدہ اجازت کے ساتھ مارچ کی کال دی ہے۔ یلو ویسٹس نے اس مشترکہ مارچ میں شامل ہونے کے بجائے پلیس ڈی لا کونکورڈ کے مقام پر الگ اجتماع کا منصوبہ بنایا، حالانکہ حکام نے وہاں مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔ تحریک کی رابطہ کمیٹی کے رکن بینجمن بال نے اسے بڑے پیمانے پر نافرمانی کی کال قرار دیا۔

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور دیگر سکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ توڑ پھوڑ یا لوٹ مار کی کوشش کی صورت میں فورسز کارروائی کے لیے تیار ہوں گی۔ حالیہ مظاہرے عمومی طور پر پرامن رہے ہیں، تاہم بعض مواقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی ہوئے۔

فرانس میں حالیہ احتجاج نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی بے چینی اور ملک گیر ہڑتالوں کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ جمعرات کو بھی لاکھوں کارکن سڑکوں پر نکلے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس روز مجموعی طور پر مظاہرے نسبتاً منظم رہے، اگرچہ مختلف شہروں میں جھڑپیں ہوئیں اور 642 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے طرز عمل پر بھی سوالات اٹھے ہیں اور مبینہ زیادتیوں سے متعلق متعدد داخلی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

مظاہرین کے بنیادی مطالبات میں کم از کم اجرت میں اضافہ، عمومی تنخواہوں میں بہتری، ٹیکس اصلاحات اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی حالات بہتر بنانا شامل ہیں۔ وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے پیر کو ٹریڈ یونینوں اور آجر تنظیموں کے نمائندوں سے اجرتوں اور قوت خرید کے موضوع پر بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔

احتجاجی دباؤ ایسے وقت بڑھ رہا ہے جب فرانس کو سرکاری قرض اور بجٹ کے مسائل کا سامنا ہے اور آئندہ صدارتی انتخاب میں چھ ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں مضبوط پوزیشن میں دکھائی گئی ہیں، جس سے معاشی مطالبات کے ساتھ احتجاج کی سیاسی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

یلو ویسٹس تحریک پہلی بار آٹھ سال قبل ایندھن پر ٹیکس بڑھانے کے منصوبے کے خلاف بڑے احتجاج سے نمایاں ہوئی تھی۔ موجودہ مظاہروں میں مختلف گروہوں کے مطالبات مکمل طور پر یکساں نہیں، تاہم مہنگائی، قوت خرید اور حکومتی معاشی پالیسی ان سب کے مشترکہ موضوعات میں شامل ہیں۔